0
Friday 23 Sep 2022 21:17

کوئٹہ میں عوام پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں، مولانا عبدالحق ہاشمی

کوئٹہ میں عوام پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں، مولانا عبدالحق ہاشمی
اسلام ٹائمز۔ امیرجماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبدالحق ہاشمی نے کہا ہے کہ قوم کو امریکہ و آئی ایم ایف کے حوالے کرنے والے حکمران و اسٹبلشمنٹ ہیں۔ جماعت اسلامی لٹیروں کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کر رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری و بدامنی ختم کرنے کیلئے دیانت دار، دین دار قیادت کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی دیانت دار قیادت کے ذریعے اسلامی نظام لاکر قوم کو امریکی غلامی و آئی ایم ایف سے نجات دلائیگی۔ بلوچستان میں ہر طرف لوٹ مار جاری، حکمران غافل و باریاں لینے میں مصروف ہیں۔ بلوچستان حکومت میں شامل ہونے و نکلنے والے حکمران و فرینڈلی اپوزیشن قوم کے مجرم ہیں۔ سات دہائیوں سے یہی لوگ بلوچستان کے وسائل ہڑپ کر رہے ہیں۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ لٹیروں سے نجات مل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت میں عوام پینے کے پانی کیلئے ترس رہے ہیں۔ کوئٹہ و بلوچستان بھر میں غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گیس بجلی بحران بدترین لوڈشیڈنگ سے ہر فرد، شعبہ شدید متاثر ہے۔ رہی سہی کسر بجلی کے ٹیرف، گیس ٹیکسز میں ہوشربا اضافے نے پوری کردی ہے۔ پندرہ ہزار ماہوار تنخواہ لینے والوں کے یوٹیلٹی بلز 40 ہزار تک آرہے ہیں۔ حکومت عوامی مسائل کو حل کرنے میں سنجیدہ نہیں، صرف ذاتی مفادات کیلئے کام کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں جاری سنگین قسم کی مہنگائی نے تمام اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں۔ چند ماہ کے دوران بنیادی اشیاء کی قیمتیں 47 فیصد سے تجاوز کرچکی ہیں۔ حکمران آئی ایم ایف سے پوچھے بغیر ایک پالیسی نہیں بنا سکتے۔

تحریک انصاف اور موجودہ اتحادی حکومت نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران جس طرح بے رحمانہ انداز میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو بڑھایا گیا ہے۔ اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔ بلوچستان زرعی صوبہ، وسائل سے مالا مال لیکن غافل بدعنوان حکمرانوں کی وجہ سے عوام پریشانی کے دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ وسائل سے مالا مال پاکستان حکمرانوں کی نااہلیت اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث مسائلستان بن چکا ہے۔ اشیاء خوردونوش کی قیمتیں 40 فیصد تک اور بجلی 62 فیصد تک مہنگی ہوچکی ہے۔ ٹرانسپورٹروں نے کرایوں میں 62 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جبکہ 70 فیصد ٹرانسپورٹ بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ کوئی ایک سیکٹر بھی ایسا نہیں جس کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 1015809
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش