0
Saturday 24 Sep 2022 20:30

پاپولر فرنٹ بھارت میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتی تھی، این آئی اے کی رپورٹ

پاپولر فرنٹ بھارت میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتی تھی، این آئی اے کی رپورٹ
اسلام ٹائمز۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا بھارت میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتی تھی۔ اس کے لئے وہ سماج میں نفرت پیدا کرنے اور حکومت کی پالیسیوں کی غلط تشریح کرکے انہیں پھیلانے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی۔ یہ انکشاف قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی رپورٹ میں ہوا ہے۔ این آئی اے کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی لیڈروں کے دفاتر سے ضبط کئے گئے دستاویزات میں ایک خاص کمیونٹی کے لیڈروں کو نشانہ بنانے والا مجرمانہ مواد ملا ہے۔ خصوصی عدالت کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے این آئی اے نے 10 لوگوں کو حراست میں لینے کا مطالبہ کیا۔ مرکزی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ بنیاد پرست اسلامی تنظیم نے نوجوانوں کو لشکر طیبہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کی ترغیب دی تھی۔ پونے میں پی ایف آئی کے خلاف کارروائی کے خلاف احتجاج کرنے والے 60 سے زیادہ لوگوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ان میں سے 41 مظاہرین کو جمعہ کو پونے ضلع کلکٹریٹ کے باہر احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

یہ رپورٹ این آئی اے نے 22 ستمبر 2022ء کو پیش کی تھی۔ این آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران پتہ چلا ہے کہ ایف آئی آر میں نامزد ملزمان دوسرے مذاہب کے لوگوں کو ڈرانے کے لئے منظم جرائم میں سرگرم عمل تھے۔ یہ لوگ معاشرے میں عدم اطمینان پھیلانے کے لئے غیر قانونی سرگرمیاں انجام دیتے تھے۔ این آئی اے نے پی ایف آئی کے خلاف کارروائی کے لئے ’آپریشن آکٹوپس‘ شروع کیا تھا۔ 22 ستمبر  2022ء کو  11 ریاستوں میں این آئی اے، ای ڈی اور ریاستی پولیس کی مشترکہ ٹیم کے ذریعہ کئے گئے کئی چھاپوں میں 106 پی ایف آئی ارکان کو گرفتار کیا گیا۔ ای ڈی نے تنظیم کے تین دیگر عہدیداروں کو دہلی سے حراست میں لیا تھا۔ ان میں پرویز احمد، محمد الیاس اور عبدالمقیت کے نام شامل ہیں۔ 2018ء میں پی ایف آئی کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد سے ایجنسی نے ان سب سے کئی بار پوچھ گچھ کی ہے۔
خبر کا کوڈ : 1015966
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش