0
Monday 26 Sep 2022 23:49

پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے لگائی ہے، عنایت اللہ

پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے لگائی ہے، عنایت اللہ
اسلام ٹائمز۔ پنجاب سے آٹے کی ترسیل پر پابندی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت نے لگائی ہے، جماعت اسلامی پنجاب حکومت کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کریگی، کے پی کا تیل، بجلی اور گیس پورے ملک کو سپلائی ہوتا ہے، بنیادی انسانی ضروریات پر کوئی بھی پابندی نہیں لگا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار عنایت االلہ خان پارلیمانی لیڈر صوبائی اسمبلی اور نائب امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کا پشاور پریس کلب میں آٹے کی ترسیل کے حوالہ سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 151 صوبوں کے مابین آزادانہ تجارت کی اجازت دیتا ہے۔ کوئی صوبہ انتظامی حکم نامہ کے تحت آزادانہ تجارت پر پابندی نہیں لگا سکتا، کسی مخصوص صورتحال میں صدر پاکستان کی لازمی اجازت درکار ہو گی۔ اب تک 350 سے زائد ٹریڈرز پر آٹے کی ترسیل کے حوالے سے مقدمات درج کیے گئے ہیں، اسی طرح 10000 میٹرک ٹن سے زائد گندم اور آٹا ضبط کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں PTI حکومت نے گزشتہ چھ ماہ سے آٹے کی ترسیل پر پابندی عائد کی ہے، ملک کے 75% حصہ پر پی ٹی آئی حکومت قائم ہے۔ پنجاب اور کے پی کے میں حکومت پی ٹی آئی کی ہے اور خیبر پختونخوا کی پختون قومیت کے ساتھ PTI حکومت بھرپور ظلم اور نا انصافی روا رکھے ہوئے ہے۔ ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کا تیل، بجلی اور گیس پورے ملک کو سپلائی ہوتا ہے۔ کیا پرویز الٰہی اور محمود خان ٹیلی فون کے ذریعے اس مسئلہ کو حل نہیں کرسکتے۔؟ پنجاب میں 20 کلو آٹے کی قیمت ہزار روپے،  سندھ میں 1300 روپے جبکہ کے پی میں 22 سو روپے ہے۔ مرکزی و صوبائی حکومتیں اس بحران کی زمہ دار ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 151 صوبوں کے مابین آزادانہ تجارت کی اجازت دیتا ہے، کوئی صوبہ انتظامی حکم نامہ کے تحت آزادانہ تجارت پر پابندی نہیں لگا سکتا۔ما سوائے کسی شدید ضرورت میں، جب ایسی کسی بھی پابندی کیلئے صدر پاکستان کی اجازت ضروری ہو گی۔
خبر کا کوڈ : 1016301
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش