0
Tuesday 27 Sep 2022 19:59

بھارت، بڑے نوٹوں کی منسوخی کے معاملہ میں سماعت کیلئے سپریم کورٹ تیار

بھارت، بڑے نوٹوں کی منسوخی کے معاملہ میں سماعت کیلئے سپریم کورٹ تیار
اسلام ٹائمز۔ آج سے 6 سال پہلے بھارت کی نریندر مودی والی حکومت نے 8 نومبر 2016ء کی رات 500 اور 1000 کے نوٹوں کے رواج کو منسوخ کر دیا تھا۔ سرکاری حکم کے مطابق ملک میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹ بند کردیئے گئے تھے۔ مودی حکومت نے اس فیصلے کے پیچھے دلیل دی تھی کہ اس سے ملک میں کالے دھن پر روک لگ جائے گی۔ نوٹ بندی کے 6 سال بعد اب سپریم کورٹ کی آئینی بنچ مودی حکومت کے اس فیصلے پر سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے اس کے لئے 5 ججوں کی بنچ تشکیل دی ہے۔ بنچ کی سربراہی جسٹس ایس عبدالنذیر کریں گے۔ حالانکہ اس معاملے میں یہ کیس 16 دسمبر 2016ء کو ہی آئینی بنچ کو سونپا گیا تھا، لیکن ابھی تک بنچ کی تشکیل نہیں ہوئی تھی۔

اس معاملے کی سماعت کرنے والی بنچ میں شامل ارکان کے نام بی آر گاوائی، اے ایس بوپنا، بی وی ناگراجن، وی راما سبرامنیم ہیں اور بنچ کی سربراہی جسٹس ایس عبدالنذیر کریں گے۔ مودی حکومت کی جانب سے 8 نومبر 2016ء کو پرانے 500 اور 1000 کے نوٹوں کو واپس لینے کے اعلان کے بعد اس فیصلے کے خلاف کئی عرضیاں دائر کی گئیں۔ 15 نومبر 2016ء کو بڑے نوٹوں کی منسوخی کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے، اس وقت کے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے کہا تھا، بڑے نوٹوں کی منسوخی کے منصوبے کے پیچھے حکومت کا مقصد تعریف کا مستحق ہے۔ ہم اقتصادی پالیسی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے لیکن ہمیں عوام کو ہونے والی تکلیف پر تشویش ہے۔ حکومت کو اس پہلو پر حلف نامہ داخل کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 1016429
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش