0
Wednesday 28 Sep 2022 19:50

مودی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کی

مودی حکومت نے پاپولر فرنٹ آف انڈیا پر پابندی عائد کی
اسلام ٹائمز۔ دو مراحل کی ملک گیر چھاپہ ماری اور 240 سے زیادہ افراد کی گرفتاری کے بعد مودی حکومت نے گزشتہ شام پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر 5 سال کے لئے پابندی عائد کر دی۔ ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ تنظیموں یا محاذوں کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت فوری طور پر ’کالعدم تنظیمیں‘ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے پی ایف آئی پر اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سیمی)، جماعت المجاہدین بنگلہ دیش (جے ایم بی) اور اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے ساتھ روابط کا حوالہ دیتے ہوئے پابندی عائد کی ہے۔ آل انڈیا امام کونسل سمیت 8 دیگر تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ ادارے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو کہ ملک کی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے لئے نقصان دہ ہیں اور ان مین نظم و نسق اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی صلاحیت ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ایف آئی اور اس سے وابستہ ادارے سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی تنظیم کے طور پر کام کرتے ہیں لیکن وہ معاشرے کے ایک خاص طبقے کو بنیاد پرست بنانے کے خفیہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ خیال رہے کہ پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کی تشکیل 17 فروری 2007ء کو جنوبی ہندوستان میں تین مسلم تنظیموں کے انضمام سے ہوئی تھی۔ پی ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ وہ 23 ریاستوں میں سرگرم ہے۔ سیمی پر پابندی کے بعد پی ایف آئی کا جنوبی ہندوستان کی ریاستوں کرناٹک اور کیرالہ میں تیزی سے پھیلاؤ ہوا۔
خبر کا کوڈ : 1016610
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش