0
Wednesday 28 Sep 2022 19:37

مدارس اسلامیہ میں عصری علوم کی شمولیت قابل ستائش ہے، آل انڈیا علماء بورڈ

مدارس اسلامیہ میں عصری علوم کی شمولیت قابل ستائش ہے، آل انڈیا علماء بورڈ
اسلام ٹائمز۔ انجمن اسلام نئی دہلی میں میں آل انڈیا علماء بورڈ کے ارکان عاملہ کی میٹینگ منعقد ہوئی۔ بورڈ کے نائب صدر مولانا نوشاد احمد صدیقی نے کہا کہ ملک کے علماء و دانشوران کا مطالبہ تھا کہ مدارس اسلامیہ کے نصاب تعلیم میں مرور زمانہ کے اعتبار سے تبدیلی کی جائے کیونکہ نصاب بدلتے حالات کے منظرنامہ کا نام ہے نہ کہ جمود کا لیکن ہمیشہ کی طرح ہر بار ہمارے اکابر اسے مسترد کردیا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب علماء و دانشوران نے متفق طور پر تبدیلی نصاب و نظام پر آمادہ ہوگئے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تبدیلی سے جہاں زمانہ شناس علماء و ائمہ پیدا ہوں گے وہیں عصری علوم کی طرف قدم بڑھانے والے طلبہ کا مستقبل بھی انشاء اللہ تابناک ہوگا۔ بورڈ کے قومی جنرل سیکرٹری بنی حسنی نے کہا کہ بعض مدارس میں اگر تعمیری اعتبار سے کاغذات میں کچھ کمی بھی پائی جائے تو اسے تحفظ دیا جائے نہ کہ بلڈوزر چلا کر اسے زمیں بوس کردیا جائے۔

مولانا محمد شمیم اختر ندوی ناظم تنظیم بورڈ نے کہا کہ ہمیشہ کی طرح ہمارے ارکان عاملہ کی یہ میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں کچھ ضروری امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے بالخصوص ملک کے بدلتے حالات اور علماء کو روزگار سے جوڑنے سے متعلق گفتگو کی گئی ہے اور عنقریب اسی پس منظر میں 8 اکتوبر کو علماء بورڈ کا ایک اہم کنوینشن انجمن اسلام سی ایس ٹی ممبئی میں منعقد ہونے جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ متحدہ سماج کی تشکیل پر زور دیں اور فروعی اختلافات سے اپنے سماج کو بچائیں۔ مزید علماء بورڈ کے ریاستی صدر اور کنوینشن کے کنوینر قاری محمد یونس چودھری نے کہا کہ اس وقت ہماری مکمل توجہات 8 اکتوبر کو ہونے والے پروگرام کی تیاری پر مرکوز ہے جس کی صدارت حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی اور سرپرستی شمس العلماء حضرت مولانا سید اطہر علی اشرفی کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 1016612
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش