0
Monday 3 Oct 2022 01:01

ہری پور یونیورسٹی میں 8 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف

ہری پور یونیورسٹی میں 8 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کی ہری پور یونیورسٹی میں 8 کروڑ روپے سے زائد کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ یونیورسٹی ملازمین کو الاؤنس کی غیرمجاذ ادائیگیوں کی مد میں یونیورسٹی کو 5 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح پراجیکٹ کوآرڈینیٹر کی غیرقانونی تقرری اور تنخواہوں میں 30 لاکھ روپے جبکہ ہاؤس رینٹ نہ کاٹنے پر خزانےکو 20 لاکھ روپےسے زیادہ کا نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ آئی ٹی کنسلٹنٹ کی تقرریوں اور ای آرپی سسٹم کی مد میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ کی مالی بے قاعدگی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق آئی ٹی کے آلات کی خریداری اور تنصیب کی مدمیں 70 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگی ہوئی۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا کہ حقدار نہ ہونے کے باوجود گریڈ 20 کے ملازمین کو ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا گیا۔

اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی غیرقانونی تقرریوں کی مد میں 10 لاکھ روپے سے زائد کی بے قاعدگیاں کی گئیں جبکہ ڈیلی ویجز ملازمین کی غیرقانونی تقرری کے باعث یونیورسٹی کو 10 لاکھ روپےسے زائد کا نقصان ہوا۔ رپورٹ کے مطابق دفتر کی عمارت کے کرائے کی مد میں بھی 20 لاکھ روپے سے زائد کی بے ضابطگی ہوئی۔ دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے آڈٹ رپورٹ پر اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہری پور یونیورسٹی میں تقرریاں قانون کے مطابق ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آڈٹ رپورٹ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں ہے جس کا ہر فیصلہ قبول کیا جائے گا۔ انتظامیہ کے مطابق جہاں بھی بے ضابطگی ثابت ہوئی وہاں قانونی کارروائی کی جائےگی۔
خبر کا کوڈ : 1017295
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش