0
Monday 3 Oct 2022 22:30
نواز شریف مستقبل قریب میں پاکستان واپس آئیں گے

ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے کم، آئی ایم ایف کو ڈیل کرنا آتا ہے، اسحاق ڈار

ڈیل اور ڈھیل صرف اور صرف عمران خان کی قسمت میں ہے
ڈالر کی اصل قدر 200 روپے سے کم، آئی ایم ایف کو ڈیل کرنا آتا ہے، اسحاق ڈار
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس وقت ڈالر بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہے، ڈالر کی اس وقت جو قدر ہے، وہ حقیقی نہیں ہے، امریکی کرنسی کی اصل قدر 200 روپے سے کم ہے، ڈالر کو اصل قیمت پر لانے کے لیے جامع حکمت عملی بنا رہے ہیں، مفتاح اسماعیل سمیت سب کو کہتا ہوں کہ کچھ نہیں ہوگا، مجھے آئی ایم ایف کو ڈیل کرنا آتا ہے۔ ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مفتاح اسماعیل ہمارے ساتھی ہیں، ان کی اپنی سوچ اور میری اپنی سوچ ہے، میں سمجھتا ہوں کہ سیلاب کے دوران پٹرول کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیئے تھا، مفتاح اسماعیل سمیت سب کو کہتا ہوں کہ کچھ نہیں ہوگا، مجھے آئی ایم ایف کو ڈیل کرنا آتا ہے، وزیراعظم کو بھی کہہ دیا ہے کہ آئی ایم ایف اور میں جانوں، آئی ایم ایف کی ڈیل کرنا میرا کام ہے مفتاح کا نہیں۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کو 25 سال سے ڈیل کر رہا ہوں، اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے، عوام کی تکالیف کو نہیں بھولنا چاہیئے، نواز شریف قیمتیں بڑھانے پر ناراض ہوکر ویڈیو لنک اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ادارہ شماریات پر ہمارا کوئی دباؤ نہیں، وہ آزاد ہے، اگر گھٹیا سیاست نہ ہوتی تو آج پاکستان کا بہتر مقام ہوتا، عمران خان اور ان کی پوری ٹیم کے اعصاب پر میں سوار ہوں، عمران خان جھوٹا اور بزدل شخص ہے، آڈیو لیکس کی سازش سابق وزیراعظم نے پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ دوسری بات ڈیل کی ہے، ڈیل اور ڈھیل صرف اور صرف عمران خان کی قسمت میں ہے، انہوں نے ڈیل کرکے الیکشن لڑا، ڈیل کرکے اپنے آپ کو مینار پاکستان میں لانچ کروایا، ٹیکس پیئر کے کروڑوں روپے اس پر لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام ڈیلوں کے باوجود اگر یہ کارکردگی دکھاتے، یقین کریں کہ ان کے خلاف تحریک اعتماد کرنے کے لیے شاید قانونی اور آئینی راستہ اختیار نہ کرتے، تاہم انہوں نے سفارتی تعلقات، معیشت کی تباہی کر دی، نئی نسل کے اخلاق کی تباہی کر دی۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ ڈار کو نیب نے بلا کر پوچھا تھا کہ تمہاری جائیدادیں کہاں سے آئی ہیں، جواب دینے کے بجائے یہ مسلم لیگ (ن) کے دور میں وزیراعظم کے جہاز میں مفرور ہو جاتا ہے اور اس کا راستہ عمران خان روکے گا، وہ آپ کا راستہ کیسے روکیں گے۔؟ اس پر جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان بدترین جھوٹا اور بزدل آدمی ہے، ججوں کی بحالی کے لیے نواز شریف نکلے تو یہ 10 فٹ کا گیٹ پھلانگ کر راولپنڈی سے بھاگ گئے تھے، ایک ایس ایچ او کی مار تھے، یہ تو اٹھانے والوں نے ان کو ہمت دی، ان کو کھڑا کیا، ان کو لانچ کیا، ان کے دماغ میں گھس گئی کہ شاید میں سچ مچ کا لیڈر ہوں، یہ اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، ان کو شرم آنا چاہیئے کہ جنہوں نے ان کی مدد کی، اب ان کے خلاف کی بھی ان کی باتیں ہیں۔

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں عمران خان کو چیلنج کرتا ہوں، مجھے ثابت کریں کہ خدانخواستہ میں نے کوئی غلط کام کیا ہے، عمران خان سنو، میں نے زندگی میں کبھی ٹیکس ریٹرن کی 20 منٹ بھی تاخیر نہیں کی، جو تین بار پاکستان کا وزیر خزانہ رہ چکا تھا، اس کے خلاف جے آئی ٹی نے الزام لگایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے 20 سال تک ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان تمہارے خلاف سارے کیسز کیلفورنیا، یو کے کی ٹیکس حکام کو فراڈ کرنے سے لے کر پاکستان میں جو کچھ کیا ہے، میں نہیں چاہتا کہ پہلے ٹی وی پروگرام میں آپ کا کٹھا چٹھا کھولوں، لیکن اگر آپ خود کو قابو نہیں کریں گے تو قوم کو تمام چیزیں بتاؤں گا کہ یہ اصلیت ہے، میری وراننگ کو سنجیدہ لیں، ورنہ ان کی اور میری پبلک میں جنگ شروع ہوگی، میں نہ کیس ڈیل کا حصہ ہوں اور نہ کسی سے این آر او مانگا ہے۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عمران خان خدا کا خوف کریں، سچ بولیں، اگر سچ بولنے کی توفیق نہیں ہے تو منہ بند رکھیں، ورنہ جواب دینا سب کو آتا ہے، میں نے آپ کا بہت لحاظ کیا ہے، آپ وہی ہیں، جو 1993ء سے پہلے مجھ سے ملنے کے لیے آدھا، آدھا گھنٹہ انتظار کیا کرتے تھے۔

نواز شریف کے پاکستان واپس آنے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے علاج میں کورونا کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے، ہمیں انصاف کی توقع ہے، جیسا کہ مریم نواز کو ملا ہے، اسی طرح نواز شریف کو بھی انصاف ملے گا، وہ مستقبل قریب میں پاکستان واپس آئیں گے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ میرے پاس سارا ریکارڈ موجود تھا، اس وقت انصاف والوں کے پاس وقت نہیں تھا، میرے خلاف کیسز نہیں، ایک کیس ہے، اس کا ثبوت ہے کہ وہی کیس انٹرپول میں گیا، عمران خان کی حکومت بارہا کہتی رہی کہ دو مہینے میں تین مہینے میں لائیں گے، وہی ثبوت میں نے انٹرپول کو بھیج دیا، انٹرپول نے کلیئرنس سرٹیفیکٹ بھیج دیا کہ آپ کے خلاف ہر چیز سیدھی ہے اور حکومت کی جانب سے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔
خبر کا کوڈ : 1017460
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش