0
Thursday 6 Oct 2022 10:01

کسی بھی فیسٹیول کیلئے اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، جماعت اسلامی گلگت بلتستان

کسی بھی فیسٹیول کیلئے اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، جماعت اسلامی گلگت بلتستان
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی گلگت بلتستان کی سالانہ شوری کا اجلاس زیر صدارت مولانا عبد السمیع امیر جماعت اسلامی منعقد ہوا۔ جس میں جی بی کے مسائل، حکومتی کارکردگی، سیاسی صورتحال پر درج ذیل قرار داد پاس کی گئی۔ شوری کے سالانہ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں عوامی ایشوز میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں، مہنگائی، بے روزگاری، لوڈشیڈنگ، صاف پانی کی قلت، میرٹ کی پامالی عروج پر ہے۔
 
اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ اسمبلی مچھلی منڈی کا منظر پیش کر رہی ہے۔ عوام کے مسائل کے حل کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہیں، حکومت عوامی مسائل کم کرنے کے بجائے ان مسائل میں اضافہ کر رہی ہے۔ ریونیو اتھارٹی بل سے عوام کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا لہٰذا حکومت فوراً اس بل کو واپس لے۔ جماعت اسلامی انجمن تاجران کے ٹیکس کے خلاف ہڑتال کی حمایت کرتی ہے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے لہٰذا گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا نظام دیا جائے۔
 
قرارداد میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی کی ادویات تک مییسر نہیں اور نہ ہی ڈاکٹرز موجود ہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات اور ڈاکٹروں کی کمی کو دور کیا جائے۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے لیے فوراً ہینزل پاور پراجیکٹ اور دیگر منصوبوں پر کام کا آغاز کیا جائے، گلگت بلتستان میں فوراً جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ پہلے سے اعلان شدہ اضلاع داریل، تانگیر، یاسین پر فوراً عمل درآمد کروایا جائے۔ بابوسر کو آل ویدر بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں تاکہ جی بی کے عوام کو سفری سہولیات میں آسانی ہو۔
 
اجلاس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پی آئی اے کے جہازوں میں کرایہ بہت زیادہ کیا گیا ہے لہٰذا ان پر نظرثانی کی جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے اندر اور باہر کوئی بھی فیسٹیول طے کرنے سے پہلے ہماری ثقافت، اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پروگرام طے کیے جائیں۔ متاثرین سیلاب اور زلزلہ زدگان کے مسائل فوراً حل کیے جائیں اور سردیوں کی آمد سے قبل ان کو چھت فراہم کی جائے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ استور شونٹر ،غزر چترال روڈ پر کام تیز کیا جائے۔
خبر کا کوڈ : 1017856
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش