1
Wednesday 23 Nov 2022 20:58

ایران میں احتجاج، پس پردہ حقائق!

ایران میں احتجاج، پس پردہ حقائق!
تحریر: سید منیر حسین گیلانی

ایران کے اسلامی انقلاب کے قیام میں رضا شاہ پہلوی کیخلاف عوامی احتجاج میں یہاں کی سوشلسٹ جماعت ”مجاہدین خلق“ نے بھی حصہ لیا۔ اس جماعت کا خیال تھا کہ انقلاب اگر علماء کی قیادت میں کامیاب ہو بھی گیا تو مولوی اس اہل نہیں کہ امور مملکت چلا سکیں۔ لہٰذا انقلاب کی کامیابی کی صورت میں قائم ہونیوالی حکومت ان کی سوشلسٹ پارٹی ہی کی ہوگی۔ لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ عالم ربانی آیت اللہ روح اللہ خمینی جنہوں نے کئی سالوں سے پلاننگ کرکے امور مملکت کے لیے طاقتور اور تربیت یافتہ علماء کا کیڈر تیار کر لیا تھا۔ لہٰذا تحریک انقلاب اسلامی کی کامیانی کے بعد جب ”مجاہدین خلق“ کو اقتدار میں حصہ نہ ملا تو انہوں نے ملک میں افراتفری پھیلانے کیلئے اسلامی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے دہشتگردانہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ اس مقصد کیلئے مذہب سے بیزار نوجوانوں کو استعمال کیا گیا، حتیٰ کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایران کی سرکردہ قیادت وزیراعظم ہاوس میں ہونیوالے بریف کیس بم دھماکے میں شہید کر دی گئی۔ اس سانحہ میں وزیراعظم محمد جواد باہنر، صدر مملکت محمد علی رجائی اور ایک دوسرے واقعہ میں چیف جسٹس آیت اللہ محمد حسین بہشتی جیسے اہم لوگ بھی شہید ہوگئے۔

راقم کو وہ وقت یاد ہے کہ انقلابی لوگ اور اسلام پسند عوام سڑکوں پر نکل آئے اور گریہ و زاری کرتے ہوئے امام خمینی کی رہائش گاہ پر پہنچے۔ وہ نعرے لگا رہے تھے کہ "ہم کہاں جائیں” باہنر، رجائی اور بہشتی اس دنیا میں نہیں رہے۔“ امام خمینی اپنی رہائش گاہ سے باہر نکلے، غم زدہ لوگوں سے مخاطب ہوئے، انہیں تعزیت پیش کی اور لرزتے ہاتھوں کو اٹھا کر کہا: ”رجائی، باہنر، بہشتی نیستند، خدا ہست۔“ پھر امام خمینی نے فوری انتخابات کروانے کا حکم دے دیا۔ ایرانی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بین الاقوامی بڑی طاقتوں اور خطے کی کچھ مسلمان قوتوں نے بھی ایران عراق جنگ شروع کروا دی۔ جس میں ایران کا بہت جانی اور مالی نقصان ہوا۔ لیکن اسلام کی فدائی ایرانی قوم کے مثالی جذبے کو کم نہ کیا جا سکا۔ نعرہ لگا، "جنگ جنگ تا پیروزی۔" یعنی "جنگ فتح تک جاری رہے گی۔" پھر جب ایران نے پورے عزم کیساتھ جنگ لڑی اور استعماری قوتوں کا مقابلہ کیا تو اسی دوران امت مسلمہ کے لیڈران نے جنگ بندی کی غرض سے امام خمینی سے ملاقاتیں کی، جن میں جنرل ضیاءالحق بھی شامل تھے اور جنگ بندی کی استدعا کی۔ اس کے جواب میں رہبر مسلمین نے ان رہنماوں سے سوال کیا، کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں یا دوسری قوتوں کیساتھ۔؟ آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اسی دوران سعودی عرب نے یہاں تک بھی پیغام بھیجا کہ جنگی نقصانات کے ازالے کیلئے 25 ارب ڈالرز ایران کو دے گا۔ لیکن بات آگے نہ چل سکی۔

جنگ کے دوران بھی ایران کے اندر حکومت مخالف گروہوں کو پیسہ دے کر ملک میں افراتفری پھیلانے کی کوشش کی گئی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔ لیکن تمام خطرناک ہتھکنڈوں کے باوجود اسلامی حکومت آگے بڑھ رہی اور ترقی بھی کر رہی ہے۔ حال ہی میں ایران کی طرف سے روس کو جدید ڈرون طیاروں کی فروخت کرنے کی خبر نے پوری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ ایران میں آئین کے مطابق تسلسل کے ساتھ باقاعدہ انتخابات ہوتے ہیں۔ عوامی نمائندے اپنی مدت اقتدار پوری کرنے کے بعد عوام سے ووٹ مانگتے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی کسی قسم کی رکاوٹ کبھی پیدا نہیں ہوئی اور جنگ کے دوران بھی انتخابات کروائے گئے۔ اسی طرح اسلامی حکومت نے ابوالحسن بنی صدر کو معتدل آدمی سمجھتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کا صدر بنایا، وہ بھی امریکی ایجنٹ نکلا، جس کا علم ولی فقیہ اور اعلیٰ ایرانی حکام کو ہوا تو وہ اپنی جان بچاتے ہوئے ملک سے فرار ہوگیا۔ پھر انتخابات ہوئے تو صدارتی منصب پر سید علی خامنہ ای کو چن لیا گیا، جو کہ جنگ کے دوران فوج کی وردی پہن کر اگلے مورچوں تک لڑائی کا تجربہ رکھتے تھے اور آج بھی ان کی زندگی کو خطرات سے نمٹنے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ جس کا ثبوت ایک دھماکے کے دوران مفلوج ہونیوالا ان کا ہاتھ ہے۔ یہ ان کی جواں مردی، ہمت اور اسلام پر جان نثاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ان دنوں ایران میں بدامنی ہے، حکومت کیخلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس بدامنی نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، چاہے ایران کی مخالف ہو یا حمایتی۔ ایران کی اپر کلاس جو کہ کبھی بھی انقلاب اسلامی کی حمایتی نہیں رہی۔ ان کی آزاد خیال لڑکیاں اسلام اور اسلامی جمہوریہ کی قیادت کیخلاف سڑکوں پر ہیں اور اس میں بے مقصد قسم کے نعرے لگائے جا رہے ہیں۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ایک لڑکی "مہسا امینی" کو حجاب کی خلاف ورزی پر تنبیہ کی گئی تو اس نے شدید ردعمل دیا۔ جس پر اسلامی تہذیب کو برقرار رکھنے والی اخلاقی پولیس نے اسے کونسلنگ سنٹر پہنچا دیا، تاکہ اسلامی اقدار کی پابندی کے حوالے سے اس کو سمجھایا جا سکے۔ میڈیا کے مطابق مہسا امینی کو دل کا دورہ پڑا، اسے ہسپتال لے جایا گیا مگر جانبر نہ ہوسکی۔ پھر اس کی موت کو ایشو بنا کر بین الاقومی میڈیا، امریکی، برطانوی، سعودی اور یورپی ممالک کے ٹی وی چینلز لڑکی کی موت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں اور اسلامی حکومت کیخلاف ہونیوالے مظاہروں کو پیش کیا جا رہا ہے۔

میں حیران ہوں کہ اگر مسئلہ حجاب کا تھا تو حل ہو جانا چاہیئے تھا۔ ایران کے اندر 90 فیصد خواتین اپنے بال کٹواتی اور ترشواتی ہیں، لیکن صرف گھر کی چار دیواری کے اندر رہ کر، شرعی پردے کیساتھ۔ لیکن یہ احتجاج کیسا ہے، جس میں اللہ کے نام لکھے ایرانی پرچم کی توہین کی جا رہی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی توہین کی جا رہی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دنگا فساد مہسا امینی کی موت کی وجہ سے نہیں ہو رہا بلکہ مختلف ممالک کی جانب سے ایران کی اسلامی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کیلئے کی جانے والی سرمایہ کاری کا نتیجہ ہے، جبکہ کچھ علاقوں سے مظاہرین کو اسلحہ بھی مہیا کیا جا رہا ہے۔ میں اس مسئلے کی حساسیت کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ دنوں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈ بھی ایران کیخلاف احتجاج میں شامل تھے۔ اسی طرح اسرائیلی حکمران، وائٹ ہاوس میں اپنے امریکی ہم منصب سے بات کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ہمیں ایران کیخلاف مزید وقت کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے، جو کچھ کرسکتے ہیں، اس پر جو بیج لگایا تھا، وہ اب زمین سے اوپر آگیا ہے۔ ہمیں حکومت کی تبدیلی کیلئے اکٹھے ہو کر آگے قدم بڑھانا چاہیئے۔

اسی طرح سعودی عرب بھی انتشار پھیلانے والے گروہ کو سپورٹ کر رہا ہے، جس پر ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے سعودی عرب کو تنبیہ کی ہے کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت ایران کی بڑھتی ہوئی جدید اسلحہ کی پیداوار، جدید ڈرون اور میزائل ہیں، جس نے بین الاقوامی اور علاقائی طاقتوں کی پریشانی میں اضافہ کر دیا ہے۔ یوکرین کی جنگ میں ایران روس کو میزائل اور ڈرون فراہم کر رہا ہے اور وہ اتنے جدید ہیں کہ اس صلاحیت پر امریکہ، برطانیہ اور یوکرین میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں فرانس جس نے یوکرین کو پہلے سے جاری اسلحہ کی سپلائی کے ساتھ ٹینک اور سرمایہ کی فراہمی بھی زیادہ کر دی ہے۔ فرانس کے عوام سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں کہ یوکرین کی مدد کرنے کی وجہ سے روس نے آئل اور گیس بند کر دی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بنیادی ضروریات سے محروم ہوگئے ہیں۔ ابھی حال ہی میں ایک دوسرے بحری بیڑے پر حملہ کیا گیا ہے، جس سے یورپ کو خوراک، گندم، مکئی اور دوسری اشیائے ضروریہ Black Sea کے ذریعے سپلائی ہوتی تھیں، بند کر دی گئی ہیں، تاکہ یوکرین کی کوئی چیز یورپ نہ جا سکے۔

اب یورپی ممالک میں فرانس، جرمنی، انگلینڈ اور باقی ممالک میں سردیوں کے موسم میں انرجی کا نہ ہونا، خوراک کی عدم دستیابی اور مہنگائی کا جن بوتل سے نکل چکا ہے۔ اس سے عوام پریشان ہیں اور حکمرانوں کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ اس جنگ میں امریکہ کے اشارے پر نہ چلا جائے۔ انہیں حالات کے ساتھ بین الاقوامی سطح پر اندرونی مظاہروں کو روکنے کی وجہ سے ایران کو داعش جیسی خوفناک دہشتگرد گروہ مذہبی قوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اور جواز پیش کر رہے ہیں کہ ان واقعات میں ایرانی فورس کے استعمال کی وجہ سے سینکڑوں لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں جیل میں ہیں۔ تو عام فہم شخص بھی سمجھ سکتا ہے کہ بدامنی کو امن میں بدلنے کیلئے شرپسندوں کے خلاف ملکی قانون کے مطابق اقدامات نہیں کرتے تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ ریاست کا نقشہ کیا ہوگا؟ اور یہ کہنا کہ سختی کی جا رہی ہے افسوسناک ہے۔ عراق اور شام میں شیعہ اسلام کے پیروکاروں نے داعش کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسلامی حکومت کے قیام کے دنیا میں دو ماڈل ایران اور افغانستان ہیں، دونوں میں جمہوریت کہاں ہے؟ اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ایران کو اپنے خلاف پراپیگنڈے کو زائل کرنے اور مشکل حالات کو قابو کرنے کیلئے سخت اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ امریکی، اسرائیل، سعودی سرمایہ کاری کے ممکنہ زہریلے اثرات سے بچا جا سکے۔
(مضمون نگار پاکستان کی سیاسی جماعت اسلامک ڈیموکریٹ فرنٹ کے چیئرمین اور سابق وفاقی وزیر تعلیم ہیں)
خبر کا کوڈ : 1026441
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش