0
Thursday 24 Nov 2022 19:12

امریکہ درحقیقت "اسلامی جمہوری" نظام حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے، نوم چومسکی

امریکہ درحقیقت "اسلامی جمہوری" نظام حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے، نوم چومسکی
اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے معروف زبان دان، فلسفی، تاریخی و سماجی لکھاری اور سیاسی کارکن پروفیسر نوم چومسکی نے ایران کے خلاف جاری امریکہ کی تازہ ترین سازش کی قلعی کھولتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایران میں جاری پرتشدد ہنگاموں کو حاصل کھلی امریکی حمایت کا مقصد ایران میں رائج اسلامی جمہوری نظام حکومت کا خاتمہ ہے۔ انگریزی ای مجلے ٹرتھ آوٹ کے ساتھ گفتگو میں نوم چومسکی نے ایران میں ہونے والے بلووں کی امریکہ کی جانب سے کھلی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ، اپنے دشمن يعنی "اسلامی جمہوری نظام حکومت" کو کمزور بنانے کے لئے کسی بھی قسم کی مدد کو تیار ہو جائے گا۔ نوم چومسکی نے ایران میں وقوع پذیر ہونے والے حالیہ پرتشدد ہنگاموں کی جانب اشارہ کیا اور زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ، بلا شک و شبہ، سال 1979ء سے ہی اپنے اصلی دشمن؛ اسلامی جمہوری نظام حکومت کو کمزور بنانے کی ہر کوشش کی ضرور حمایت کرے گا۔

اپنی گفتگو میں امریکی فلسفی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف صدام حسین کی کھلی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران پر جارحانہ حملے کے وقت امریکہ نے اس وقت کے اپنے دوست صدام حسین کی انتہائی فوری مدد کی تھی جبکہ تب سے ہی تہران پر عائد امریکی پابندیوں نے نہ صرف ایرانی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے بلکہ یہ بہت سے بے گناہ ایرانی عوام کے درد و الم کا باعث بھی بنی ہوئی ہیں تاہم یہ پابندیاں، ایران کے خلاف گذشتہ 40 سالوں کے دوران امریکہ کا اولین ہدف رہی ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی کے بارے نوم چومسکی کا کہنا تھا کہ (ایران و عراق کی) جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ نے ایران کے خلاف سخت پابندیاں عائد کر دیں، صدر (جارج) بش نے عراقی جوہری انجینیرز کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی پیشرفتہ ٹریننگ کے لئے امریکہ بلا لیا اور صدام کے لئے واشنگٹن کی لا متناہی حمایت کی یقین دہانی کے لئے ایک اعلی سطحی وفد عراق بھیج دیا جبکہ یہ سب کچھ ایران کے لئے ایک شدید خطرے کے حساب میں آتا تھا اور وہی وقت تھا کہ جب سے ایران کی کڑی سزا جاری ہے اور یہ سزا، دونوں سیاسی پارٹیوں (ڈیموکریٹک و ریپبلکن) کی مستقل سیاست کا حصہ بن چکی ہے۔

امریکی پروفیسر نے اپنی گفتگو کے دوران ایران کے خلاف برطانیہ و غاصب صیہونی رژیم کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان تمام اقدامات کا مقصد وجود میں آنے والے اسلامی جمہوری نظام حکومت کو کمزور بنانا تھا، تاکید کی کہ برطانیہ مکمل تابعداری کے ساتھ امریکہ کی پیروی کرتا رہا جبکہ اسرائیل بھی 1979ء میں وجود میں آنے والے اپنے "اصلی دشمن" کی سرنگونی کے لئے جو کر سکے گا، کرے گا! نوم چومسکی نے ایک سوال کے جواب میں ایران پر عائد یورپی و امریکی پابندیوں کو عوامی رنج و الم کا باعث قرار دیا اور کہا کہ پابندیوں نے نہ صرف ایرانی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا ہے بلکہ یہ ایرانی عوام کے سخت رنج کا باعث بھی ہیں تاہم یہ مسئلہ امریکہ کے لئے گذشتہ 40 سالوں سے زیادہ کے عرصے کے دوران اولین ہدف رہا ہے تاہم یورپ کے لئے یہ مسئلہ مختلف ہے کیونکہ یورپی تجارت ایران کو سرمایہ کاری، تجارتی لين دین اور معدنیات کی کان کنی کے مواقع کے طور پر دیکھتا ہے درحالیکہ امریکہ نے ایران کو سزا دینے کی خاطر یہ تمام مواقع مسدود کر رکھے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1026618
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش