QR CodeQR Code

ملکی سطح پر چالیس فیصد آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے، وی سی زرعی یونیورسٹی ڈیرہ

25 Nov 2022 00:06

ڈاکٹر مسرور الٰہی کا کہنا تھا کہ عوام میں صحت مند طرز زندگی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مکئی اور گندم کی آمیزش سے تیار شدہ آٹے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔


اسلام ٹائمز۔ زرعی یونیورسٹی ڈیرہ اسما عیل خان کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور الٰہی بابر نے کہا ہے کہ ملکی سطح پر چالیس فیصد آبادی غذائیت کی کمی کا شکار ہے جس پر قابو پانے کیلئے عوام میں صحت مند طرز زندگی اور غذائیت سے بھرپور خوراک کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ مکئی اور گندم کی آمیزش سے تیار شدہ آٹے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ اس امر کا اظہار انہوں نے میڈیا کے نماٸندوں سے گفتگو کرتے ہوٸے کیا۔ ڈاکٹر پروفیسر مسرور الٰہی بابر نے کہا کہ پاکستان میں گندم کی ضرورت تیس ملین ٹن ہے جبکہ ہم 26 سے27 ملین ٹن گندم پیدا کرتے ہیں، اگر گندم کے اندر 15 فیصد مکئی کی آمیزش سے آٹا تیا کر لیا جائے تو اس سے نہ صرف گندم کی امپورٹ کو ختم کیا جاسکے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ غذائیت کی کمی کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے گندم کی پیداوار جمود کا شکار ہے جبکہ مکئی کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے، انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ طلبہ بغیر ناشتے کے سکول اور کالجز جاتے ہیں جس سے وہ تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے۔ صحت مند معاشرے کو تشکیل دینے میں مدد کرے گا۔ عوام میں غذائیت کے حوالے سے معلومات کا فقدان ہے ہم جتنا خرچ اپنے کھانے پینے پر کر رہے ہیں اتنا ہی پیسوں میں غذائیت سے بھرپور غذا کو اپنایا جاسکتا ہے جس کیلئے عوامی سطح پر شعور بیدا کرنے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جاٸیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں۔


خبر کا کوڈ: 1026677

خبر کا ایڈریس :
https://www.islamtimes.org/ur/news/1026677/ملکی-سطح-پر-چالیس-فیصد-آبادی-غذائیت-کی-کمی-کا-شکار-ہے-وی-سی-زرعی-یونیورسٹی-ڈیرہ

اسلام ٹائمز
  https://www.islamtimes.org