0
Tuesday 29 Nov 2022 12:15

سوست ڈرائی پورٹ پر سنگین مالی کرپشن کا انکشاف، کلٹر کسٹم کے خط نے بھانڈا پھوڑ دیا

سوست ڈرائی پورٹ پر سنگین مالی کرپشن کا انکشاف، کلٹر کسٹم کے خط نے بھانڈا پھوڑ دیا
اسلام ٹائمز۔ سوست ڈرائی پورٹ پر سنگین مالی کرپشن کے انکشافات ہوئے ہیں۔ کلکٹر کسٹم گلگت بلتستان کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے گئے خط میں سوست ڈرائی پورٹ پر ٹیکس چوری اور لاکھوں کی کرپشن کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ کلکٹر کسٹم گلگت بلتستان نے ایک خط میں چیف کلکٹر، ڈی جی انٹیلی جنس اینڈ انوسٹیگیشن اور دیگر اہلکاروں پر سنگین مالی کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی ڈیوٹی سے معذوری ظاہر کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کلکٹر کسٹم گلگت بلتستان نثار احمد نے اپنے ایک خط میں اپنی ڈیوٹی سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوست ڈرائی پورٹ پر مخصوص مافیا کی جانب سے کرپشن اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے، اس لیے اس صورتحال میں میں اپنی ڈیوٹی ادا نہیں کر سکتا۔ خط میں ڈی جی کسٹم انٹیلی جنس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں منشیات سمگلر بھی قرار دیا گیا ہے۔

یہ غیر معمولی خط ایف بی آر کے حکام کو چند روز پہلے کلکٹر کسٹم نثار احمد کی جانب سے لکھا گیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ میں نے (نثار احمد) نے 11 ستمبر 2022 کو بطور کلکٹر گلگت بلتستان اپنی ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ جہاں تعیناتی کے بعد مجھے سوست ڈرائی پورٹ پر ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں غیر معمولی بے ضابطگیوں کا سامنا ہوا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حیرت انگیز طور پر فی کنٹینر ڈیوٹی، ٹیکس کی اوسط وصولی صرف 2.8 ملین روپے کی حیران کن کمی تھی، اس حقیقت کے بائوجود یہ پورٹ ہر قسم کی درآمدات کیلئے فعال ہے۔ تحقیقات کی گئی تو پتہ چلا کہ پرنسپل اپریزر راجہ وسیم احمد بعض تاجروں سے مل کر پورا ایک کارٹیل چلا رہا ہے، اور وہ 2019 میں اپنی تعیناتی سے اب تک مسلسل ٹیکس چوری کے مجرمانہ جرائم میں ملوث ہے۔

انہوں نے فی جی ڈی 30 لاکھ روپے کی غیر قانونی ٹیکس چھوٹ دی۔ ان کی کرپشن کی تصدیق اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ اکتوبر 2022 کے دوران فی جی ڈی ریونیو پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 123 فیصد زیادہ ہوئی۔ بعد میں انہیں 19 ستمبر 2022 کو اپنے عہدے سے ہٹا کر چیف کلکٹر آفس اسلام آباد بھیج دیا گیا، ان کیخلاف باقاعدہ انکوائری ہوئی، انکوائری میں ان کی طرف سے کی جانے والی سنگین کرپشن، بدانتظامی اور نااہلی کی تصدیق ہوئی۔ جس کے بعد انہیں معطل کرنے کی سفارش کے ساتھ ان کیخلاف چارج شیٹ بھی بنایا گیا۔ خط میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وسیم احمد جولائی 2022 سے ڈی جی کسٹم انٹیلی جنس کو مالی طور پر فیڈ کرتا رہا ہے اور ڈی جی کسٹم انٹیلی جنس آنکھ بند کر کے ان کو تحفظ دے رہا تھا۔

وسیم احمد کے جانے کے بعد ریونیو میں 123 فیصد اضافے کے باوجود ڈی جی کسٹم انٹیلی جنس نے اچانک ڈی جیز ( GDs) کو سوست پورٹ پر بلاک کرنا شروع کر دیا۔ بعد میں ڈی جی کسٹم انٹیلی جنس نے 23 اکتوبر کو ملزم وسیم احمد کو بچانے کیلئے ممبر ایڈمن سے دو گھنٹے تک ملاقات کی لیکن ناکام ہوا۔ تاہم انہوں نے ممبر ایڈمن پر زور دیا کہ اس کیس کو اپنے دفتر بھیج دیا جائے۔ جس کے بعد اب یہ انکوائری ڈی جی کے اپنے ایڈیشنل ڈائریکٹر محمد رضا کو بھیج دی گئی ہے۔ مزید برآں سوست ڈرائی پورٹ پر 2017 سے ای آئی ایف کی چھوٹ دی گئی تھی، چیف کلکٹر کی ہدایات پر 16 اکتوبر 2022 کو یہ چھوٹ اچانک بند کر دی گئی۔ جس کیخلاف مقامی تاجروں نے چیف کورٹ سے رجوع کر لیا۔

عدالت نے گیارہ نومبر کو اپنے فیصلے میں اس چھوٹ کو دوبارہ بحال کرنے کا حکم دیا لیکن چیف کلکٹر نے مجھے ہدایت کی کہ میں چیف کورٹ کے حکم کی تعمیل نہ کروں جس کیلئے انہوں نے یہ بہانہ بنایا کہ عدالت نے سٹیٹ بنک کے ضوابط کو معطل نہیں کیا اور یہ کہ سٹیٹ بنک اور وزارت تجارت چیف کورٹ کو جوابدہ نہیں۔ اس کے بعد گلگت بلتستان کے مقامی تاجروں نے ایک اور رٹ پٹیشن دائر کی جس میں سٹیٹ بنک اور وزارت تجارت کو فریق بنایا گیا۔ عدالت نے 23 نومبر کو چھوٹ کی اجازت دینے کا اپنا پہلا فیصلہ برقرار رکھا۔ میں نے بورڈ کو مطلع کیا کہ مجھے عدالت کے فیصلوں کی پابندی کرنی ہوگی۔ حیران کن طور پر چیف کلکٹر نے دوبارہ سے مجھے عدالت کا حکم نہ ماننے کی ہدایت کی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ مقامی تاجروں نے GDs کو بلاک کرنے کے عمل کو بھی معزز چیف کورٹ میں چیلنج کیا۔ عدالت نے 23 نومبر کو اپنے عبوری حکم میں ضمانت جمع کروانے کی شرط پر جی ڈیز کو جاری کرنے کا حکم دیا۔ چیف کلکٹر نے مجھ سے کہا کہ میں ان جی ڈیز کو جاری نہ کروں بلکہ مجھے ان جی ڈیز کی دوبارہ جانچ پڑتال کرنے کو کہا حالانکہ سوست میں کسٹمز کے عملے نے پہلے ہی جانچ پڑتال کی تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران ڈیوٹی اور ٹیکس کی وصولی اوسطاً 2.8 ملین سے بڑھ کر 6.4 ملین فی کنٹینر کرنے کیخلاف بطور کلکٹر مجھے تاجروں کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال کا سامنا کرنا پڑا، مجھے تاجروں کی سخت ناراضگی اور غیر ضروری دباو کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پچھلے کی نسبت میرے دور میں وصولی 123 فیصد بڑھ گئی تھی۔

میری پوسٹنگ سے پہلے فی کنٹینر 2.8 ملین روپے وصولی ہوتی تھی، یہاں میری تعیناتی کے بعد یہ وصولی بڑھ کر فی کنٹینر 6.4 ملین روپے ہو گئی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ان حالات کے پیش نظر میں بطور کلکٹر اپنے فرائض کو آزادانہ طور پر سرانجام دینے میں معذوری محسوس کرتا ہوں، کیونکہ میری وجہ سے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انوسٹیگیشن راجہ وسیم کی قیادت میں سوست ڈرائی پورٹ پر بڑے پیمانے پر ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کے منظم جرائم میں ملوث بااثر مافیاز کے مفادات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، اسی لیے یہاں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ بورڈ مشورہ دے کہ میں اپنے فرائض کو جاری رکھنے کیلئے کیا کروں؟
خبر کا کوڈ : 1027207
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش