0
Wednesday 30 Nov 2022 11:24

لاہور، کابینہ کمیٹی نے ہائی سکیورٹی زون ایکٹ کی منظوری دیدی

مخصوص مقامات پر جلسہ، جلوس، احتجاج، دھرنا دینے پر پابندی ہوگا
لاہور، کابینہ کمیٹی نے ہائی سکیورٹی زون ایکٹ کی منظوری دیدی
اسلام ٹائمز۔ پنجاب کابینہ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی نے صوبے کے مخصوص مقامات پر عوامی اجتماعات کو روکنے کیلئے پنجاب ہائی سیکورٹی زونز ایکٹ کی منظوری دیدی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب کسی بھی ضلع کی ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کی کسی خاص جگہ یا مقام پر عوامی اجتماعات پر پابندی کی سفارشات جن کی توثیق صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی نے بذریعہ نوٹیفکیشن آفیشل گزٹ میں کی ہو، پر متعلقہ ضلع کی اس خاص جگہ پر عوامی اجتماعات پر ہمیشہ کیلئے پابندی لگا سکے گا، تا وقتیکہ صوبائی انٹیلی جنس کمیٹی اس نوٹیفکیشن کو منسوخ نہ کر دے۔

ہائی سکیورٹی زونز میں وہ علاقے اور مقامات شامل ہونگے، جن میں محکمہ داخلہ پنجاب نے اہم سرکاری املاک و تنصیبات کو نوٹیفائی کیا ہوگا۔ ایسے علاقوں میں کسی قسم کے افراد کے گروپ، سیاسی و مذہبی جماعتوں، یونینز اور ایسوسی ایشنز کے سیاسی اجتماعات، جلوس، دھرنوں اور احتجاج پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد کی جا سکے گی۔ اس قانون کے تحت ضلعی پولیس کے سربراہ کے پاس اختیار ہوگا کہ وہ کم از کم سب انسپکٹر رینک کے افسر کے ذریعے ہائی سکیورٹی زون میں جلسہ کرنیوالے کا سازو سامان، گاڑیاں، کرسیاں، کارپٹ، سٹیج، روسٹرم اور بینرز سمیت ایسا تمام سامان جس کے بارے میں شک ہو کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی کیلئے استعمال ہو سکتا ہو، کو ضبط کر سکتا ہے۔

ہائی سکیورٹی زون میں جلسہ، جلوس، احتجاج، دھرنا اور سیاسی و مذہبی اجتماع منعقد کرنیوالے، اس کی کوشش کرنیوالے، اس میں مدد دینے والے کی سزا کم از کم ایک سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال قید سخت اور پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ ہائی سکیورٹی زون میں مذکورہ سرگرمیوں میں شریک ہونیوالوں کو چھ ماہ سے ایک سال تک سزا اور تین لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ ہائی سکیورٹی زون قانون کی خلاف ورزی کوڈ آف کریمنل پروسیجر 1898ء کے مطابق ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 1027632
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش