0
Wednesday 30 Nov 2022 21:26

ایران، صیہونی انٹیلی جنس سے وابستہ چار افراد کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار

ایران، صیہونی انٹیلی جنس سے وابستہ چار افراد کی سزائے موت کا فیصلہ برقرار
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم کورٹ نے صیہونی انٹیلی جنس کے چار کارندوں کو سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھا۔ بدھ کے روز اعلیٰ عدالت کے میڈیا سنٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صیہونی خفیہ ایجنسیوں کے چار کارندوں کی سزائے موت کو برقرار رکھا گیا جنہیں رواں سال مئی کے مہینے میں ایران کی وزارت انٹیلی جنس اور پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس آرگنائزیشن نے مشترکہ آپریشن کے دوران گرفتار کر لیا تھا۔ صیہونی کارندوں کا یہ نیٹ ورک ملک میں سرکاری و نجی املاک کی توڑ پھوڑ، اغوا کی وارداتوں، صیہونی انٹیلی جنس کے ساتھ تعاون اور جعلی اعترافات حاصل کرنے جیسی مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث تھا۔

قانونی کارروائی کے بعد نیٹ ورک کے چار افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے سزائے موت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے ان کی اپیل مسترد کر دی۔ نیٹ ورک کے دیگر تین ارکان کو غیر قانونی ہتھیار رکھنے اور قومی سلامتی کے خلاف جرائم کرنے، اغوا کی وارداتوں میں مدد دینے کے جرم میں پانچ سے دس سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیٹ ورک کے ارکان کو ملک کے باہر سے آرڈر مل رہے تھے جس کے بعد یہ لوگ یہاں اغوا کی وارداتیں انجام دیتے اور ملکی سلامتی کو نقصان پہنچاتے تھے۔ یہ لوگ اپنی تنخواہیں کرپٹو کرنسی میں وصول کر رہے تھے۔
خبر کا کوڈ : 1027742
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش