0
Sunday 4 Dec 2022 12:22
امریکہ نے امتیازی سلوک کی انتہا کرتے ہوئے پاکستان کا نام فہرست میں شامل کیا، علامہ محمد حسین اکبر

پاکستان کی اقلتیوں نے مذہبی آزادی پر امریکی رپورٹ کو مسترد کر دیا

بھارت کی نسبت پاکستان میں ہندو زیادہ محفوظ ہیں، ہندو رہنما پنڈت بھگت لال کا خطاب
پاکستان کی اقلتیوں نے مذہبی آزادی پر امریکی رپورٹ کو مسترد کر دیا
اسلام ٹائمز۔ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے زیراہتمام لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں "بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس" منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا عنوان "بین المذاہب ہم آہنگی اور عصر حاضر کے تقاضے رکھا گیا تھا۔ کانفرنس سے مولانا اشرف علی خان، پنڈت بھگت لال، ڈاکٹر میمپال سنگھ، علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر، ڈاکٹر فرامر روشنی، علامہ عبدالرشید حجازی، ڈاکٹر لیاقت مسیح، پروفیسر ظفراللہ شفیق، مولانا عبدالخبیر آزاد، علامہ محمد افضل حیدری، علامہ باقر گھلو، علامہ سبطین اکبر، علامہ رشید ترابی، سینیٹر کامران مائیکل، مفتی عبدالشکور اور مولانا عرفان قمی سمیت دیگر نے خطاب کیا۔

علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں کرنیوالے 10 ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے، تاہم حیرت انگیز طور پر اس میں اپنے مسلمان شہریوں اور کشمیریوں پر مذہب کی بنیاد پر بدترین ظلم کرنیوالے بھارت کا نام شامل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس امریکہ نے امتیازی سلوک کی انتہا کرتے ہوئے پاکستان کا نام فہرست میں شامل کیا ہے۔ ایران، شمالی کوریا، سعودی عرب اور دیگر ممالک بھی فہرست کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام اسلام دشمنی کا واضح ثبوت ہے، بھارت میں سب سے زیادہ مذہبی شناخت پر پُر تشدد کارروائیاں ہوتی ہیں، لیکن حیرت ہے کہ بھارت کا نام ہی فہرست سے نکال دیا گیا ہے اور اکثریت مسلم ممالک کی  ہے۔ دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگ خوشحال اور پُرامن زندگی گزار رہے ہیں۔

ہندو رہنما پنڈت بھگت لال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہندو بھارت کی نسبت زیادہ محفوظ ہیں، یہاں ہمارے مندر محفوظ ہیں، ہمیں مسلمانوں کے برابر حقوق حاصل ہیں، انہوں نے امریکی رپورٹ کو بے بنیاد قرار دیا۔ مسیحی رہنما ڈاکٹر لیاقت مسیح نے کہا کہ ہم نے قیام پاکستان کے وقت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا تھا کہ ہم پاکستان میں محفوظ رہیں گے اور تاریخ  نے ہمارے اس فیصلے کو درست ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم انڈیا میں غیر محفوظ اور پاکستان میں مکمل محفوظ ہیں، لیکن امریکہ نے جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو اس فہرست سے نکال کر خیانت کی ہے۔ سکھ رہنما ڈاکٹر میم پال سنگھ نے کہا کہ سکھ مذہب کے پیروکار پاکستان کے تمام شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ خود ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور لاہور کے ایک بڑے ہسپتال میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ لاہور کے سب سے بڑے تعلیمی ادارے جی سی یونیورسٹی میں سکھ پروفیسر ہیں، پولیس اور فوج میں بھی سکھ مذہب کے پیروکاروں کو برابر حقوق حاصل ہیں۔ مولانا عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ پاکستان اقلیتوں کیلئے جنت ہے جبکہ مودی سرکار نے انڈیا کو اقلتیوں کیلئے جہنم بنا رکھا ہے۔ دیگر مقررین نے بھی امریکی رپورٹ کی پرزور انداز میں مذمت کی اور اسے یکسر مسترد کر دیا۔
خبر کا کوڈ : 1028414
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش