0
Tuesday 6 Dec 2022 02:15
پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار بنانا ہمارا اچھا عمل نہیں تھا

پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے بیانات پر جنرل باجوہ کیطرف سے وضاحت آنی چاہیئے، خرم دستگیر

نواز شریف اور آصف زرداری کو جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیئے
پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے بیانات پر جنرل باجوہ کیطرف سے وضاحت آنی چاہیئے، خرم دستگیر
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے بیانات پر جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے وضاحت آنی چاہیئے، نواز شریف اور آصف زرداری کو جنرل باجوہ کو توسیع دینے کی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیئے۔ پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار بنانا ہمارا اچھا عمل نہیں تھا، جنرل باجوہ ریٹائر ہوچکے ہیں، عمران خان کو اتنی جرات تھی تو اقتدار میں رہتے ہوئے یہ باتیں کرتے، عمران خان صوبائی اسمبلیاں نہیں توڑیں گے، پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیاں توڑی گئیں تو وہاں الیکشن ہوں گے۔ عمران خان جن بے ساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آئے، وہ ہٹیں تو انہیں اپنی غلطیاں یاد آگئیں۔ وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ پروگرام میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد زبیری بھی شریک تھے۔

عابد زبیری نے کہا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا کمزوری نہیں بہادری ہوتی ہے، اعظم سواتی کو بلوچستان میں قید رکھنا بہت افسوس کی بات ہے، آزادیٴ اظہار رائے بنیادی حق ہے، ایسی کوئی پابندی نہیں لگ سکتی، جس سے وہ ختم ہو جائے، پی ٹی آئی ارکان کے استعفے قبول نہیں ہو رہے تو انہیں عدالت سے رجوع کرنا چاہیئے۔ وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرچکے ہیں، انہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینے کی غلطی کا اعتراف کر لینا چاہیئے، عمران خان اپنے جھوٹ کو غلطی نہ کہیں، عمران خان نے پینتیس پنکچر کا الزام لگایا، پھر کہا سیاسی بیان تھا، عمران خان اپنی ذمہ داری سے مکمل طور پر مفرور ہیں، عمران خان کہتے ہیں کہ نیب ان کے ہاتھ میں نہیں تھا، حکومت ان کے ہاتھ میں نہیں تھی، یہ عمران خان کی غلطی نہیں بلکہ ان کی کمزوری ہے۔

خرم دستگیر خان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ ریٹائر ہوچکے ہیں، عمران خان میں اتنی جرات تھی تو اقتدار میں رہتے ہوئے یہ باتیں کرتے، عمران خان جب حکومت میں تھے، تب یہ غلطیوں کی باتیں نہیں کرتے تھے، موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو عمران خان نے ہی نامزد کیا تھا، پرویز الٰہی کو وزارت اعلیٰ کا امیدوار بنانا ہمارا اچھا عمل نہیں تھا، ہم پنجاب حکومت گرانے کیلئے پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتے تھے۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے بیانات پر جنرل قمر جاوید باجوہ کی طرف سے وضاحت آنی چاہیئے، فوج سیاست سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے تو سیاستدان بھی انہیں سیاسی مدد کیلئے طلب نہ کریں، فوج کی سیاست میں عدم مداخلت کی پالیسی برقرار رہنی چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 1028739
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش