0
Thursday 8 Dec 2022 17:39

مسلم پرسنل لاء بورڈ بابری مسجد کے 32 ملزمان کے بری ہونے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریگا

مسلم پرسنل لاء بورڈ بابری مسجد کے 32 ملزمان کے بری ہونے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریگا
اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا ہے کہ وہ بابری مسجد انہدام کیس کے ملزمان کی بری کرنے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے 2020ء میں بابری مسجد انہدام کیس میں 32 ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ ملزمان میں سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سرکردہ لیڈران شامل تھے۔ خیال رہے کہ 6 دسمبر 1992ء کو ایودھیا میں ہزاروں ہندو کار سیوکوں نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بابری مسجد ایک تباہ شدہ ہندو مندر کے کھنڈرات پر تعمیر کی گئی تھی اور یہ جگہ بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ایگزیکٹو ممبر اور ترجمان سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ بورڈ نے ملزمان کو بری کئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم یقینی طور پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے جا رہے ہیں کیونکہ ایودھیا فیصلے میں سپریم کورٹ نے خود تسلیم کیا ہے کہ بابری مسجد کا انہدام ایک مجرمانہ فعل تھا۔ ایودھیا کا تاریخی فیصلہ سنانے والی سپریم کورٹ پانچ ججوں کی بنچ نے بابری مسجد کے انہدام کو قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا اور ملزمان اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ سید قاسم رسول نے کہا کہ اپیل کنندگان حاجی محبوب اور سید اخلاق سی بی آئی کے گواہ تھے اور ان کے گھروں پر 6 دسمبر 1992ء کو حملہ کیا گیا تھا اور ملزمان کی جانب سے جمع کئے گئے ہجوم نے انہیں جلا دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ محبوب اور اخلاق بابری مسجد کے قریب رہتے تھے۔
خبر کا کوڈ : 1029164
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش