0
Monday 25 Sep 2023 23:34
اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

علی محمد خان نے بھی لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کر دیا

میرا نہیں خیال کہ جیل مذاکرات کیلئے اچھی جگہ ہے، باہر آنا چاہیئے
علی محمد خان نے بھی لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کر دیا
اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنماء علی محمد خان نے بھی لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطالبہ کردیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران علی محمد خان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے بغیر الیکشن ایسے ہی ہوں گے، جیسے کرکٹ میچ تو ہو لیکن پچ ہی نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ آپ عمران خان کو موقع دیں کہ وہ اپنے کیسز کا سامنا کریں، لیول پلیئنگ فیلڈ سب کو ملنی چاہیئے۔ پی ٹی آئی رہنماء نے مزید کہا کہ نگران وزیراعظم کو پی ٹی آئی سے متعلق بیان نہیں دینا چاہیئے، یہ ان کا مینڈیٹ نہیں، اُن کے بیان نے خدشات پیدا کیے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں اور لیڈروں کو فیلڈ میں ہونا چاہیئے، چیئرمین پی ٹی آئی کسی فیور کے انتظار میں نہیں، بات تو ان سے کرنا پڑے گی۔ علی محمد خان نے یہ بھی کہا کہ ماضی سے سبق سیکھ کر اپنی غلطیاں درست کرکے آگے جانا ہوگا۔ 60، 70 فیصد نوجوان تحریک انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی پر زیادہ تر کیسز سیاسی ہیں، ان کا حل بھی سیاسی ہے، آپ بیٹھیں، ایوان صدر کس لیے بنایا گیا؟ کیا صرف خرچے پانی کے لیے بنایا گیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماء کا کہنا تھا کہ وہ سیاستدان ہی کیا جو بات نہ کرے، ہماری سیاسی کمیٹی ہے، بات ہوتی ہے، قوم کو آگے لے جانے کی ضرورت ہے، سب کو اناؤں سے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے بات کرنی چاہیئے، آپ کو بات کرنا ہوگی، آج غریب آدمی کھانے کے لیے پریشان ہے، کیا یہ پی ٹی آئی کے ساڑھے 3 سال میں ہوا۔؟ علی محمد خان نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کی ہم سب نے مذمت کی ہے، میرا نہیں خیال کہ جیل مذاکرات کے لیے اچھی جگہ ہے، باہر آنا چاہیئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ سب سے مقبول لیڈر پابند سلاسل ہے، پوچھتا ہوں کیا سائفر کیس میں انصاف ہوتا نظر آرہا ہے۔؟

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ نواز شریف بھی تشریف لائیں، تمام سیاسی پلیئرز کو میدان میں ہونا چاہیئے، ایوان صدر میں تمام لیڈر شپ آئے اور ڈسکشن ہو۔ انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان کے مفاد میں نواز شریف اور چیئرمین پی ٹی آئی میں مذاکرات کیوں نہیں ہوسکتے؟ علی محمد خان نے کہا کہ بتایا جائے کہ عمار کے آنسو بہے، کون اس کا ذمہ دار ہے؟ کیا حکومت، ریاست، معاشرہ بچے سے ایسے ڈیل کرتا ہے۔؟ اُن کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کی وجہ سے عوام اور اداروں میں فاصلے پیدا نہیں ہونے چاہئیں، احتساب ہونا چاہیئے، بے لاگ ہونا چاہیے، لیکن غیر سیاسی بنیاد پر ہونا چاہیئے۔ پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ پاکستان کی بات ہوگی تو معاملات ٹھیک ہو جائیں گے، جہاں انا کی بات ہوگی، راستہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، مجھے نہیں پتہ ہر دور میں یہ بات کیوں ٹیسٹر کے طور پر پھینک دی جاتی ہے۔ علی محمد خان نے کہا کہ او بھائی، مسئلہ کشمیر، فلسطین، ختم نبوت پر نو کمپرومائز، بار بار کیوں ہمارے ایمان کو ٹیسٹ کرتے ہو، یار اتنے گئے گزرے تو ہم نہیں ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1083950
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش