0
Monday 8 Jul 2024 20:26

غزہ پٹی میں شہریوں کیخلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنیکے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہیں، قاہرہ

غزہ پٹی میں شہریوں کیخلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنیکے اسرائیلی اقدام کو مسترد کرتے ہیں، قاہرہ
اسلام ٹائمز۔ مصر کے وزیر خارجہ نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں صیہونی حکومت کی طرف سے غزہ میں شہریوں کے خلاف بھوک کو ہتھیار کے طور پر استعمال کو مسترد کر دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق، مصر کے وزیر خارجہ سامح الشکری ​​نے پیر کے روز غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی حکومت کے اقدامات پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ کی پٹی میں شہریوں کے خلاف بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے اسرائیل کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوری جنگ بندی اور غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ الشکری ​​نے مزید کہا کہ ہم نے غزہ کو 70 فیصد امداد فراہم کی اور ہم غزہ پٹی کی حمایت جاری رکھیں گے۔

غزہ میں صیہونی حکومت کے جرائم بدستور جاری ہیں، ایک آگاہ طبی ذریعہ نے الجزیرہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ صیہونی حکومت نے محاصرے کو جاری رکھتے ہوئے، صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو بیرون ملک بھیجنے سے روکا، جس کے نتیجے میں کینسر کے 436 مریض مریض انتقال کر گئے۔ چند ماہ قبل ترک-فلسطینی فرینڈشپ ہسپتال کے سربراہ صبحی سکیک نے اعلان کیا تھا کہ غزہ میں میڈیکل آنکولوجی کا شعبہ رکھنے والے واحد ہسپتال کو قابض فوج نے فلسطینیوں پر حملے کے پہلے دنوں میں بند کر دیا تھا۔ غزہ میں کینسر کے دس ہزار مریض اس نگہداشت سے محروم ہیں، جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔

گذشتہ اکتوبر کے آخری ایام تھے، جب غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے شدید بمباری کے بعد ترک-فلسطینی فرینڈشپ ہسپتال بند کر دیا گیا ہے۔ صیہونی حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر ترک فلسطین فرینڈشپ اسپتال کو نشانہ بنانے کے بعد، جو غزہ کی پٹی میں کینسر کے علاج کا واحد خصوصی اسپتال تھا۔ اسرائیل کینسر کے مریضوں کے لیے ضروری ادویات، خاص طور پر کیموتھراپی کی ادویات کی درآمد کو روکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی دوسرے ممالک میں منتقلی کو روکتا ہے۔ سکیک نے اسی وقت کہا کہ انہوں نے ان مریضوں کی بڑی تعداد کو بیرون ملک بھیجنے کی درخواست کی، لیکن ان میں سے بہت کم تعداد کو ملک چھوڑنے کی اجازت ملی۔ اس لیے انہوں نے عالمی برادری اور دنیا کے ممالک سے ان مریضوں کی جان بچانے کے لیے مدد کی درخواست کی۔

آج (پیر) 276 دن کی جنگ کے بعد غزہ کی وزارت صحت نے شہداء کی تعداد 38,193 افراد تک بڑھنے کا اعلان کیا۔ اب تک 87,903 دیگر افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ اس وزارت کے اعلان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قابض حکومت کی فوج نے غزہ میں شہریوں کے خلاف تین جرائم کا ارتکاب کیا، جس کے نتیجے میں 40 فلسطینی شہید اور 75 مزید فلسطینی زخمی ہوئے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بھی اعلان کیا ہے کہ بعض شہداء کی لاشیں ابھی بھی عمارت کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں اور امدادی دستے شہداء کی لاشوں کو نہیں نکال پا رہے ہیں۔

مسلسل بمباری کے علاوہ سات مہینوں میں رفح کراسنگ پر اسرائیلی فوج کے قبضے کے بعد سے غزہ میں خوراک اور ادویات کی ناکہ بندی بھی تیز ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں غزہ کی وزارت صحت نے آج دیر البلاح کے "شہداء الاقصی" ہسپتال میں غذائی قلت کے باعث ایک 6 سالہ بچے کی شہادت کا اعلان کیا، جس سے بھوک کی وجہ سے جان کی بازی ہارنے والے بچوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے۔ غزہ کے ایک اسپتال کے ذرائع نے بھی شہاب نیوز ایجنسی کو بتایا کہ محاصرے اور ادویات کی کمی کے باعث جنگ کے آغاز سے اب تک کینسر کے 436 مریض جاں بحق ہوچکے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 1146534
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش