0
Monday 8 Jul 2024 22:52

ہمیں سب سے پہلے ایران کے "جوہری پروگرام" کو شکست دینا ہوگی، لائبرمین کی دہائی

ہمیں سب سے پہلے ایران کے "جوہری پروگرام" کو شکست دینا ہوگی، لائبرمین کی دہائی
اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی آرمی ریڈیو گولگٹز (Golgeltz) کو انٹرویو دیتے ہوئے غاصب صیہونی رژیم کے سابق وزیر جنگ اور یسرائیل بیتینو (Yisrael Beiteinu) نامی سیاسی پارٹی کے سربراہ ایویگڈور لائبرمین (Avigdor Lieberman) نے اعلان کیا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام کے خاتمے اور ایران کو شکست دیئے بغیر حماس و حزب اللہ کو شکست دینا ممکن ہی نہیں!

جنگ غزہ میں صیہونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی انتہائی ناقص کارکردگی اور غلط پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے لائبرمین نے کہا کہ ہمیں جو کچھ جاننے کی ضرورت ہے یہ ہے کہ ہمارا رہنما (نیتن یاہو) ایک ایسا شخص ہے کہ جو نہ صرف 7 اکتوبر (طوفان الاقصی) کے واقعات کو سمجھ تک نہ پایا اور ہنوز 6 اکتوبر کے واقعات میں ہی پھنسا ہوا ہے بلکہ وہ جنگ (غزہ) کے خاتمے کے طریقۂ کار کے بارے بھی کچھ نہیں جانتا اور صرف ہمیں اس تھکا دینے والی جنگ میں ہی مزید جھونکتا چلا جا رہا ہے!

عرب ای مجلے عرب48 (Arab48) کے مطابق سابق اسرائیلی وزیر جنگ نے مزید کہا کہ ایران کو شکست دیئے بغیر آپ جیت ہی نہیں سکتے؛ نہ حماس سے اور نہ ہی حزب اللہ سے۔۔ ہمیں ان (ایران) کے جوہری پروگرام کو شکست دینا ہوگی۔۔ امریکہ نے جاپان کے خلاف دوسری جنگ عظیم شروع کی اور کسی نے بھی نہ پوچھا کہ فاتح کون ہے؟!

ایویگڈور لائبرمین نے بنجمن نیتن یاہو پر ایک بار پھر شدید تنقید کی اور دہائی دیتے ہوئے کہا کہ اسے معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کرنے جا رہا ہے۔۔ حماس اور حزب اللہ کی جغرافیائی گہرائی "وہی ایران" ہے۔۔ ہمیں میز پر ایک ماسٹر پلان کی ضرورت ہے کہ انہیں کیسے شکست دی جائے۔۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم جنگل میں ہیں اور ہمارے گھر کا مالک پاگل ہو چکا ہے!!

لائبرمین نے مغربی ممالک کے ساتھ اتحاد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا مسئلہ صرف اور صرف ہمیں مزید محدود کر دے گا۔۔ اگرچہ انہوں نے (مغربی ممالک نے) مدد کی ہے لیکن وہ ہر چیز کو روکنے کے قابل نہیں۔۔ دیکھیں شمالی کوریا میں کیا ہو رہا ہے۔۔؟ وہ تو شمالی کوریا کو بھی ہر سال اپنی جوہری صلاحیت کو بہتر بنانے کی اجازت دے دیتے ہیں!!

اسرائیل بیتنو پارٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ میں تجزیہ کار نہیں لیکن ان کی سرگرمیوں کے سامنے میمنوں کے جیسی خاموشی اختیار کرنے کو "کمزوری" سے ہی تعبیر کیا جاتا ہے کہ جس سے انہیں مزید حوصلہ ملتا ہے۔۔ انہیں اپنی طاقت پر بہت زیادہ اعتماد ہے جبکہ اسرائیل میں "شرمندگی کا احساس" پھیلتا جا رہا ہے اور کوئی نہیں بتاتا کہ یہ انتظار کس لئے ہے اور وہ کیا توقع رکھتے ہیں؟!

سابق اسرائیلی وزیر جنگ نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری سب سے خطرناک غلطی یہ تھی کہ ہم (مزاحمتی) بازوؤں (حزب اللہ، حماس اور انصاراللہ) کے خلاف تھکا دینے والی جنگ میں کھنچتے چلے گئے اور ہم اس مسئلے کے سرچشمے (ایران) کا سامنا تک نہیں کر رہے۔۔ یہ ایک بڑا خطرہ ہے۔۔ ہمیں اس معاملے کو میز پر رکھنا چاہیئے اور فوج سے مطالبہ کرنا چاہیئے کہ وہ اس کے لئے منصوبہ بندی کرے۔۔ ہمیں تحفظ اور ڈیٹرنس کا احساس بحال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی یہ نہ پوچھے کہ بالآخر کون جیتا!!
خبر کا کوڈ : 1146545
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش