0
Wednesday 18 Jan 2012 20:30

گیارہ سال مسلط رہنے والے فوجی ڈکٹیٹر نے ملک برباد کر دیا، سردار آصف احمد علی

گیارہ سال مسلط رہنے والے فوجی ڈکٹیٹر نے ملک برباد کر دیا، سردار آصف احمد علی
اسلام ٹائمز۔ تھرڈ ورلڈ سالیڈیرٹی تنظیم کے تحت منعقدہ سیمینار بعنوان ’’افغان جنگوں کے پاکستان پر اثرات‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور تحریک انصاف کے رہنما سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کے عجیب حالات ہیں، میڈیا میں ایک باقاعدہ مہم جاری ہے، مساجد، مدارس اور مینار پاکستان سے دنیا کو ایک ہی پیغام دیا جا رہا ہے کہ ساری دنیا ہمارے پیچھے پڑ گئی ہے، ہر ایک کے ساتھ ہمارے گلے، شکوے ہیں۔ ہم دنیا کیلئے ’’پرابلم چائلڈ‘‘ بن چکے ہیں، ہمیں ہر وقت یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہماری خودمختاری خطرے میں ہے۔ ہم نے تو امریکہ کو کہا تھا کہ ہمیں PEANUT نہیں چاہیے۔ سردار آصف احمد علی نے فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پوری دنیا کو خوش آمدید کہتے ہوئے دعوت دی کہ ہماری مدد کرو، ہمیں اسلحہ دو، ہم جہاد لائینگے، آج آپ کیوں رو رہے ہیں، آپ یہودونصار اور ہندو مہاجن کو موردالزام ٹھہراتے ہیں، کیا اس ملک کی قومی پالیسی مفروضوں، پیشین گوئیوں، عملیات اور علم نجوم پر رکھی جائے گی، میڈیا اگر کسی شخص کو غلط رنگ میں پیش کرتا ہے تو اس کو گولی مار دی جاتی ہے۔

سردار آصف احمد علی نے کہا کہ پاکستانی قوم کو کس نے بتایا کہ یہ دنیا انصاف پر چلتی ہے، دنیا نے تو قوموں کو ہزاروں سالوں سے انصاف نہیں دیا، یہ ملک علمائے کرام، مفتیاں دین اور مولویوں نے نہیں بنایا تھا یہ ملک عام آدمیوں نے جمہوریت کے ذریعے حاصل کیا تھا، اگر 1947 میں جمہوریت پر کسی کو اعتراض نہیں تھا تو آج 2012 میں جمہوریت ناقابل برداشت کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت دنیا کا واحد نظام ہے جس کے اندر اصلاح کی صلاحیت اور قابلیت موجود ہے، افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر کے ہم نے فاش غلطی کی اور ایک فوجی ڈکٹیٹر عوام پر گیارہ سال مسلط رہا جس نے ملک کو برباد کر دیا۔ ضیاء الحق نے دنیا بھر سے جہادیوں کو اکٹھا کیا جن میں بڑی اکثریت مجرموں کی تھی، دو فوجی ڈکٹیٹروں کی سہولت کی خاطر 22 برسوں میں دو نسلوں کی زندگیاں تباہ کر دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کی جنگ میں بری طرح پھنس چکے ہیں، کوئی فلسفی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تہذیبوں کا میدان جنگ ہے لیکن میں الہامات، عملیات اور مفروضوں پر اپنے سیاسی نظریات کی بنیاد نہیں رکھتا، ہمارے پاس سوائے اس کے کوئی حل نہیں کہ ہم افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم حقانی صاحب اور ملا عمر صاحب سے یہ کیوں نہیں کہتے کہ آپ کی وجہ سے ہماری سلامتی خطرے میں ہے، اگر آپ ہمارے دوست ہیں، آپ اپنے ملک میں اپنے ساتھیوں کو لے کر واپس جائیں، پاکستان کو یہ تکلیف ہے کہ بھارت کا افغانستان میں بڑا تسلط ہے، بھارت ایک ارب ڈالر کی امداد دیتا ہے، ان کا وہاں مفاد ہے، پاکستان 40,30 کروڑ ڈالر کی امداد دیتا ہے۔ سردار آصف احمد علی نے کہا کہ اگر حقانی نے کابل میں حکومت بنائی تو وہ بھی بھارت سے مالی امداد لے گا، وہ کون سا افغان رہنما ہے بشمول حکمت یار، احمد شاہ مسعود اور ملا عمر کے جس نے پاکستان کی پشت پر خنجر نہیں گھونپا، میں حکومت کو کہوں گا اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو بھی مشورہ دوں گا رومانیت اور مذہبی رومانیت پسندی پاکستان کے مفاد میں نہیں، ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے ہٹ جانا چاہیے، پاکستان طالبان پر اثرانداز نہیں ہو سکتا، وہ ہماری بات سننے کیلئے تیار نہیں، دو بہروں کے درمیان مکالمہ نہیں ہو سکتا، میں نے پاک افغان تنازعے کے حل کیلئے ایک ’’امن پلان‘‘ بنایا ہے، میں عمران خان کو یہ امن پلان دوں گا، ابھی میں اس کو عوام کے سامنے نہیں لا سکتا، میرا یہ منصوبہ تحریک انصاف کیلئے ہے۔ اس موقع پر مشتاق لاشاری، محمد سرور، سابق رکن برطانوی پارلیمنٹ، تنظیم کی سیکرٹری شہر بانو، عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسان وائیں، مجیب الرحمان شامی اور فرخ سہیل گوئندی نے بھی خطاب کیا۔ 
خبر کا کوڈ : 131385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب