0
Wednesday 9 Jan 2013 09:51

اسکردو، دکاندار دیسی ساخت کی انگیٹھی سے سردی کی شدت کو کم کرنے لگے

اسکردو، دکاندار دیسی ساخت کی انگیٹھی سے سردی کی شدت کو کم کرنے لگے
اسلام ٹائمز۔ اسکردو میں ان دنوں ایک طرف سردی کی شدت سے غریب عوام اور کاروباریوں کی سرگرمیاں مفلوج ہوگئی ہیں تو دوسری طرف اسکردو بازار میں اعصاب شکن لوڈشیڈنگ نے ان کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے کھوکھلے دعوؤں کے باوجود خطے میں غریب عوام کے لیے زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے۔ سردیاں اپنی جوبن پر ہیں اور لکڑی اور گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جو کہ غریب عوام کی دسترس میں نہیں ہے۔ دوسری طرف اعصاب شکن لوڈشیڈنگ نے جہاں گھر بار اور دفتروں میں لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کردی ہیں وہاں دکانداروں کو بھی جنوری کی سردی بہت ستا رہی ہے۔

مقامی دکاندار حضرات کے نصیب میں یہ نہیں کہ سردیوں میں ہیٹر لگا کر سردی کی شدت کم کریں اور گاہکوں کے انتظار میں رہیں کیونکہ بجلی اسکردو میں صرف روشنی کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ اگر ہیٹنگ کے لیے استعمال کی جائے تو ان پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے جبکہ افسروں کے مویشی خانوں اور غسل خانوں میں بھاری برقی آلات کے استعمال پر کسی قسم کی پابندی نہیں ہوتی۔

ان دنوں اسکردو شہر میں جا بجا دکانداروں کو دیسی ساخت کی انگیٹھی لگائے اس کے گرد جمع ہوتے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس حلقے میں دکاندار بیٹھ کے نہ صرف آگ تاپتے اور گاہکوں کا انتظار کرتے ہیں بلکہ عجیب و غریب اور دلچسپ موضوعات پر بھی گفتگو سنتے ملتے ہیں۔ ان کے موضوعات کا محور اکثر اوقات مہدی شاہ کی گل پاشیاں، محکمہ تعلیم کی رشوت ستانیاں، مہنگائی اور سیاسی داؤ پیچ ہوتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 229377
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش