0
Wednesday 26 Mar 2014 01:29

دینی مدارس پر دہشت گردی کا الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، محمود بشیر

دینی مدارس پر دہشت گردی کا الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے، محمود بشیر
اسلام ٹائمز۔ منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان مولانا محمود بشیر نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی میں لاکھوں دینی مدارس کو ہدف بنانا حکومتی بدنیتی ہے۔ نئی سلامتی پالیسی پر دینی مدارس کو شدید تحفظات ہیں۔ حکومت کی نیت دینی مدارس کو تحویل میں لینے کی ہے۔ حکومت کی موجودہ پالیسی بیرونی منصوبہ بندی کی عکاس ہے۔ یہ بات انہوں نے ''دارالسلام '' میں ضلعی منتظم حافظ ابوبکر ساجد اور سیکریٹری اطلاعات حافظ ذیشان شبیر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ مولانا محمو دبشیر نے کہا کہ ملکی سلامتی سے متعلق حکومتی پالیسی خوش آئند ہے اور ہر پاکستانی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے لیکن مدارس سے متعلق چند پالیسیوں سے بیرونی سازشوں کی بو آتی ہے۔ یہ پالیسیاں مدارس کے تشخص کو ختم کرنے کیلئے بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت طلبہ عربیہ کو سلامتی پالیسی کی دفعات 27 اور 36 پر تحفظات ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ دینی مدارس کے نظام اور نصاب کو حکومتی تحویل میں لیا جائیگا، ہم اس اقدام کو غلط سمجھتے ہیں۔ حکومت دینی مداس کی فکر چھوڑ کر سرکاری تعلیمی اداروں کی فکر کرے جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کا حال سب کے سامنے ہے جن کا نہ کوئی نظام ہے اور نہ نصاب حکومت کی تحویل میں جو ادارے پہلے سے موجود ہیں وہ بحران کا شکار ہیں اور اپنی موت کے قریب ہیں۔ جسکی وجہ سے حکومت انہیں پرائیویٹائز کرنا چاہ رہی ہے۔ سرکاری اداروں کو پرائیویٹ کرنے والے دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے کے اہل نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دینی مدارس پر دہشت گردی کا الزام سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ دینی مدارس پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے محافظ اور قرآن و سنت کے امین ہیں۔ مدارس قرآن و سنت کا پیغام پھیلا رہے ہیں اور ان کا نظام اور نصاب قرآن و سنت کے مطابق ہے۔ اس وقت 27 لاکھ غریب اور مستحق طلباء مدارس میں زیر تعلیم ہیں جن کے تمام اخراجات مدرسہ برداشت کرتا ہے۔ پرویز مشرف، رحمان ملک اور چوہدری شجاعت اس بات کا اقرار کر چکے ہیں کہ مدارس میں دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی۔ دہشت گردی میں بیرونی ایجنسیوں کا ہاتھ ہے مدارس کا نہیں۔ کسی ایک کی وجہ سے لاکھوں علماء کو مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت مدارس کا آڈٹ لینی کی بجائے پرائیویٹ این جی اوز جو بیرونی ایجنڈا لیکر کام کر رہی ہیں پہلے ان کا آڈٹ کرے۔ مولانا محمود بشیر نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسی کوئی پالیسی نہ بنائی جائے جس سے مدارس پر کوئی قدغن لگے۔
خبر کا کوڈ : 365815
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش