0
Wednesday 8 Sep 2010 15:40

بلوچستان میں ایف سی کو پولیس کے اختیارات،5 مسلح تنظیموں پر پابندی،صوبے میں سوات طرز کی کارروائی نہیں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا،رحمن ملک

بلوچستان میں ایف سی کو پولیس کے اختیارات،5 مسلح تنظیموں پر پابندی،صوبے میں سوات طرز کی کارروائی نہیں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا،رحمن ملک
کوئٹہ:اسلام ٹائمز-جنگ نیوز کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بلوچستان کی 5 مسلح تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور کو 3 ماہ کیلئے پولیس کے اختیارات تفویض کر دیئے گئے ہیں،بلوچستان میں سوات طرز کی کارروائی نہیں بلکہ ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائیگا،پاکستان مخالف عناصر سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی،افغانستان سے پاکستان میں مداخلت ہو رہی ہے،جس پر افغانستان،بھارت،امریکا اور اتحادی ممالک سے احتجاج کیا ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ بلوچ لبریشن آرمی،بلوچستان مسلح وطن،دفاع تنظیم،بلوچ لبریشن یونائیٹیڈ فرنٹ سمیت لشکر،لبریشن اور آرمی کے نام سے کام کرنے والی تنظیموں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ان کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے،اب ان تنظیموں سے منسلک افراد کے خلاف ٹارگٹڈ کارروائی ہو گی۔گزشتہ روز یہاں صوبائی وزیر داخلہ میر ظفر اللہ زہری اور دیگر کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے رحمن ملک کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کرائے کے قاتلوں سے معصوم لوگوں کو مروایا جا رہا ہے، حکومت نے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے حکمت عملی طے کر لی ہے،جس پر عمل کر کے صوبے میں دہشتگردی پر قابو پایا جائیگا۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی مخدوش صورتحال کے پیش نظر ایف سی کو پولیس کے اختیارات منتقل کئے جا رہے ہیں،دہشتگردی اور لسانی و فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے خاتمے کیلئے وزیراعلیٰ کو ایف سی کو کسی بھی ضلع میں پولیس کے صوابدیدی اختیارات دینے کا حق ہو گا۔ 
انہوں نے کہاکہ ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ کے پاس یہ اختیارات 3 ماہ کیلئے ہوں گے،بلوچستان میں انتہا پسندوں،ٹارگٹ کلرز اور نوجوانوں کو ورغلانے والوں کیخلاف بھرپور کارروائی ہو گی۔انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان میں جو بھی ایکشن ہو گا،صوبائی حکومت کی صوابدید پر ہو گا اور کسی بھی ایکشن کو پولیس لیڈ کریگی،جہاں حکومتی رٹ چیلنج ہو گی،وہاں ایکشن کیا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو جس چیز کی ضرورت ہو گی،وفاقی حکومت فراہم کرے گی،ان کا کہنا تھا کہ ایف سی میں بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے ڈھائی ہزار آسامیاں پیدا کی گئی ہیں،لورالائی کے بعد خضدار یا تربت میں بھرتی کیمپ لگایا جائیگا،پہاڑوں سے اتر کر نوجوان یونیفارم پہن کر پاکستان کی خدمت کریں۔

خبر کا کوڈ : 36648
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب