1
0
Wednesday 9 Apr 2014 01:22

اسرائیل ایران سے مقابلے کی صلاحیت نہیں رکھتا، حزب اللہ ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہو چکی ہے، سید حسن نصراللہ

اسرائیل ایران سے مقابلے کی صلاحیت نہیں رکھتا، حزب اللہ ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہو چکی ہے، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز (مانیٹرنگ ڈیسک)– حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے لبنان کے ڈیلی "الاخبار" کو تفصیلی انٹرویو دیا ہے جس میں موجودہ مسائل اور ایشوز پر بات چیت کی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز اردو اپنے قارئین کیلئے اس انٹرویو کی تفصیلی رپورٹ پیش کر رہا ہے۔

ایران اسرائیل کی اصلی ترین مشکل، اسرائیل ایران سے مقابلے کی صلاحیت نہیں رکھتا:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا خطے کے حالات بہت تبدیل ہو چکے ہیں۔ اس وقت پورے خطے میں اسرائیل کی سب سے بڑی اور حقیقی مشکل ایران ہے۔ ایران اسرائیل کیلئے شدید پریشانی کا باعث ہے۔ اسرائیل ایران اور مغربی دنیا کے درمیان ہر قسم کے معاہدے کے ممکنہ انعقاد یا ان کے درمیان موجود اختلافات کے ممکنہ حل کے بارے میں شدید پریشانی کا شکار ہے۔ اس کی اسی شدید پریشانی کی وجہ سے امریکی حکام بار بار اسے تسلیاں دیتے رہتے ہیں اور اسے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے چھوٹے سے چھوٹے مسائل سے آگاہ رکھتے ہیں تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان مذاکرات میں پیشرفت دیکھ کر وہ بدکنے لگے۔ اسرائیل اپنی اسی پریشانی کی وجہ سے مغربی ممالک کو یہ مشورہ دیتا ہوا نظر آتا ہے کہ ایران سے جاری جوہری مذاکرات میں اس کے میزائل پروگرام کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ مطالبہ درحقیقت اسرائیلی مطالبہ ہے جو امریکی حکام کی زبان سے بیان کیا جاتا ہے۔

حزب اللہ ماضی کی نسبت زیادہ طاقتور ہو چکی ہے:
سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان سید حسن نصراللہ نے حالیہ دنوں میں شام اور لبنان کے درمیان سرحدی علاقوں میں موجود حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ان حملوں سے اسرائیل کا مقصد شام میں جاری خانہ جنگی کو تکفیری دہشت گردوں کے حق میں تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ کئی سالوں سے اسرائیل اس کوشش میں مصروف ہے کہ لبنان کی سرزمین میں داخل ہو سکے اور اس مقصد کیلئے اسرائیل نے جنوبی لبنان میں جاسوسی آلات نصب کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور اس بات کا خطرہ بھی موجود ہے کہ اسرائیل ان علاقوں میں دہشت گردانہ بم حملوں کے ذریعے عام لبنانی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے۔ لہذا ہم نے اللبونہ کے علاقے میں بم دھماکوں کے ذریعے اپنے دشمن اسرائیل کو یہ پیغام پہنچایا ہے کہ ہم اسے کھیل کے اصول بدلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اللبونہ کے علاقے میں اسرائیل کی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ایک انتہائی اہم اقدام تھا جس نے ثابت کر دیا کہ اگرچہ حزب اللہ کی فورسز اس وقت شام میں سرگرم عمل ہیں لیکن ہم اسرائیل کی جانب سے بھی غافل نہیں اور ہماری آنکھیں کھلی ہیں اور ہم اسرائیل کے ساتھ ہر سطح پر مقابلہ کرنے کیلئے مکمل طور پر آمادہ ہیں۔ لہذا تل ابیب سمجھ چکا ہے کہ حزب اللہ سے ٹکرانا آسان نہیں۔ انہوں نے چند روز قبل شبعا کے علاقے میں اسرائیلی سیکورٹی فورسز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ خبر سب سے پہلی بار الاخبار کو بتا رہا ہوں کہ شبعا میں ہونے والا دھماکہ ہم نے کیا تھا۔ یہ دھماکہ ہم نے اسرائیل کے ہوائی حملوں کے جواب میں کیا تھا۔ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اس سے پہلے ہم جنوبی لبنان میں جو بھی کمانڈو ایکشن کرتے تھے اس کی ذمہ داری بھی قبول کرتے تھے لیکن ہماری جدید پالیسی کے مطابق یہ طے پایا ہے کہ ضروری نہیں ہم جو کاروائی انجام دیتے ہیں اس کی ذمہ داری بھی قبول کریں۔

سید حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا شام میں حزب اللہ کی فورسز کی موجودگی اسرائیل کے ساتھ ایک نئی جنگ کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے یا نہیں، کہا کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ حزب اللہ 2006ء کے مقابلے میں اب کئی گنا زیادہ طاقتور ہو چکی ہے۔ ہم نے 2006ء کی جنگ کے بعد اپنی فورسز کی جنگی مہارت، انٹیلی جنس ٹیکنولوجی کو ترقی یافتہ بنانے اور کمانڈ سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے بہت کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف کسی نئی جنگ کا آغاز کیا تو حزب اللہ 2006ء کی نسبت زیادہ بہتر انداز میں اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ٹھیک ہے اسرائیل شام میں حزب اللہ کے مجاہدین کی موجودگی کو اس اعتبار سے اچھا سمجھتا ہے کہ اس طرح ہماری فورسز شام میں مصروف ہو گئی ہیں لیکن وہ ایک اور اعتبار سے شدید خوفزدہ ہے۔ کیونکہ اسرائیل اچھی طرح جانتا ہے کہ شام میں ہماری فورسز کی موجودگی ہماری مہارت اور جنگی تجربے میں اضافے کا باعث بنے گی۔ یہ نکتہ اسرائیل کیلئے انتہائی خطرناک اور پریشان کن ہے۔ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل نے القصیر میں انجام پانے والے معرکے کا شروع سے لے کر آخر تک انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے حزب اللہ کی جانب سے شام میں حاصل کردہ تجربات پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ وہ اس بارے میں تحقیق کر رہا ہے کہ اگر کل حزب اللہ کے خلاف کوئی نئی جنگ شروع ہوتی ہے تو کیا حزب اللہ شام میں حاصل کردہ تجربات کو اس کے خلاف بھی بروئے کار لائے گی یا نہیں؟ اس وقت اسرائیل کی سب سے بڑی پریشانی ایران اور حزب اللہ ہیں۔ دوسری طرف غزہ کی پٹی نے بھی اسرائیل کو اپنے ساتھ مشغول کر رکھا ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل شام میں حزب اللہ کو حاصل ہونے والی کامیابیوں سے شدید خوفزدہ ہے اور وہ اس خوف کا برملا اظہار بھی کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر شام اس بحران سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پورے اسلامی مزاحمتی بلاک کیلئے ایک بڑی کامیابی جانی جائی گی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل صدر بشار اسد کی کامیابیوں سے شدید پریشانی کا شکار ہے۔ اس تناظر میں اسرائیل اور شام کے حکومت مخالف تکفیری دہشت گردوں کے درمیان صوبہ القنیطرہ میں جاری تعاون کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس صوبے میں زخمی ہونے والے دہشت گرد اسرائیلی سرزمین میں موجود اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

اسرائیل حزب اللہ کی فوجی طاقت کا اعتراف کر چکا ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حال ہی میں اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک نے اپنی ایک تقریر کے دوران ایک وارننگ دی تھی جو فنی اور ٹیکنیکل اعتبار سے بالکل صحیح ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حزب اللہ، حماس اور اسلامک جہاد جدید میزائل ٹیکنولوجی تک دسترس حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں حزب اللہ سمیت یہ جہادی گروپس مقبوضہ فلسطین میں جس جگہ کو چاہیں ان میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اسی بارے میں اسرائیل کے جوائنٹ چیف آف آرمی اسٹاف کا کہنا تھا کہ اگلی جنگ میں حزب اللہ ایسے میزائل فائر کرنے پر قادر نظر آئے گی جو میرے کمرے کی کھڑکی سے اندر آنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اس کا واضح مطلب حزب اللہ کے پاس جدید میزائل ٹیکنولوجی کی موجودگی ہے جس کے ذریعے تل ابیب اور اسرائیلی چیف آف جوائنٹ آرمی اسٹاف کے کمرے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل کیلئے لبنان کے خلاف ایک نئی جنگ کا آغاز کرنا کوئی آسان بات نہیں۔ اگر خطے کے موجودہ حالات اور جنگ کی صورت میں اسرائیل کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کو مدنظر رکھا جائے تو اس بات کو زیادہ اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ اسرائیل ایسی پوزیشن میں نہیں کہ ایک لمبی جنگ کا متحمل ہو سکے اور ایسی جنگ شروع کرے جس میں اسرائیلی دارالحکومت کو خطرہ پہنچنے کا امکان موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ حالات نے اسرائیل کو یہ سبق سکھایا ہے کہ وہ اپنی توقعات کو کم کرے اور اس وقت اسرائیل کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ عرب اور اسلامی ممالک کی جانب سے اس پر کم سے کم توجہ مبذول کی جائے لہذا کسی بھی عرب ملک کے خلاف اسرائیل کی جانب سے ہر ممکنہ فوجی کاروائی عرب ممالک میں اسرائیل کے خلاف جہاد کو پہلی ترجیح حاصل ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ لہذا میری نظر میں اسرائیل کی جانب سے لبنان کے خلاف کسی نئی جنگ کے آغاز کا امکان بہت بعید نظر آتا ہے۔

شام حکومت کی سرنگونی کا خطرہ ٹل چکا ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے شام کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شام کے خلاف اسرائیلی سازشیں بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکی ہیں کیونکہ اب یہ حقیقت سب پر واضح ہو چکی ہے کہ شام میں پیدا ہونے والی بغاوت دوسرے عرب ممالک میں جنم لینے والی تحریکوں سے کوئی مشابہت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا جہاں تک میری معلومات ہیں اور جہاں تک موجودہ قرائن و شواہد ظاہر کرتے ہیں شام حکومت کو درپیش سرنگونی کا خطرہ ٹل چکا ہے۔ ہر طرح کی فوجی، سیکورٹی، عوامی اور زمینی حقائق سے متعلق انٹیلی جنس رپورٹس اور اسی طرح شام حکومت کے مخالفین کی صورتحال اور خطے اور بین الاقوامی سطح پر موجود قرائن و شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خطرہ مکمل طور پر ٹل چکا ہے۔ میں کلی طور پر اس نتیجے پر پہنچ چکا ہوں کہ شام حکومت کا تختہ الٹنا ممکن نہیں اور شام کے حکومت مخالف گروہ صدر بشار اسد کی حکومت کو ختم کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتے ہیں کہ ایک لمبی اور تھکا دینے والی جنگ جاری رکھیں۔

سیکرٹری جنرل حزب اللہ لبنان نے کہا کہ شام میں سرگرم تکفیری دہشت گرد عناصر جھوٹے پروپیگنڈہ کے ذریعے اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ شام میں اپنی تعداد کو 10 ہزار تک ظاہر کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعداد اس سے کہیں کم ہے۔ اسی طرح ان کی جانب سے بڑی جنگ کی بات کی جاتی ہے جس سے ان کی مراد جنوبی شام یعنی دمشق کا معرکہ ہے۔ یہ سب صرف ایک نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے اور اب تک جو چیز ہم نے مشاہدہ کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پروپیگنڈے کا مقصد صرف اور صرف مدمقابل کو مرعوب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک شام مخالف ممالک شام میں سرگرم تکفیری دہشت گردوں کی مالی اور فوجی مدد کرنے میں مصروف ہیں یہ بغاوت چھوٹے پیمانے پر جاری رہے گی اور یہ درحقیقت ایک تھکا دینے والی جنگ کی صورت میں ہی جاری رہے گی۔

سید حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر شام کی حکومت فوجی طریقے سے سرنگون نہ ہو سکے تو کیا اس میں ملک کو چلانے کی صلاحیت موجود رہے گی؟ کہا کہ جی، یہ حکومت ملک کو چلانے پر قادر ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین سال کے تجربات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ شام کی حکومت ایک کمزور حکومت نہیں اور اسے معقول حد تک عوامی مقبولیت بھی حاصل ہے۔ اگر شام کی حکومت کمزور ہوتی تو اب تک سرنگون ہو چکی ہوتی یا اگر عوام میں اس کی مقبولیت اور محبوبیت نہ ہوتی تو اس صورت میں بھی اب تک اس کا باقی رہنا ممکن نہ تھا۔ مجھے یقین ہے کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران شام حکومت کو بھرپور عوامی حمایت حاصل رہی ہے، اگرچہ عوام کی بہت کم تعداد گوشہ گیری کا شکار ہو چکی ہے لیکن مجموعی طور پر حکومت کو عوام میں محبوبیت حاصل ہے۔

سید حسن نصراللہ نے مزید کہا کہ شام میں ہمارا مقصد خانہ جنگی کا مکمل خاتمہ ہے۔ اس خانہ جنگی نے شام کو نابود کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمارے نزدیک اہم یہ ہے کہ اس خانہ جنگی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اگر شام میں جاری خانہ جنگی ختم ہو جاتی ہے اور حکومت اور مخالفین میں مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے تو شام میں موجود اکثر مسائل کے حل کی امید پیدا ہو جائے گی۔ شام کے سر پر منڈلانے والا حقیقی خطرہ جو اب بھی ایک حد تک باقی ہے اس کی نابودی اور اس کا ٹوٹنا ہے۔ شام کی تقسیم اس ملک کیلئے ایک انتہائی سنجیدہ اور بڑا خطرہ تھا۔ مجھے یقین ہے کہ اب یہ خطرہ ٹل چکا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ شام حکومت کی سرنگونی کا خطرہ ٹل چکا ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ شام کے ٹوٹ جانے کا خطرہ بھی ٹل چکا ہے۔ لہذا اس خانہ جنگی کا خاتمہ اور مذاکرات کا آغاز شام کی سالمیت کیلئے بہت ضروری ہے۔

شام مخالف محاذ انتشار کا شکار ہو چکا ہے:
حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں شام مخالف محاذ جس میں سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر شامل تھے ٹوٹ چکا ہے اور یہ پیش بینی بھی کی جا رہی ہے کہ یوکرائن کا بحران ختم ہونے کے بعد شام می نسبت روس کے موقف میں بھی مزید مضبوطی آئے گی۔ میری نظر میں شام حکومت کے خلاف سیاسی، فوجی اور میڈیا دباو میں وقت کے ساتھ ساتھ کمی آئے گی۔ شام مخالف محاذ کی ٹوٹ پھوٹ سعودی عرب اور قطر سے شروع ہوئی۔ میں یہ نہیں کہ سکتا کہ انہوں نے شام کے بارے میں اپنے موقف میں تبدیلی لائی ہے بلکہ یہ کہنا چاہوں گا کہ شام کے خلاف ان کے موقف کی شدت اور شام کے اندرونی معاملات میں مداخلت میں خاطرخواہ کمی آئی ہے۔ دوسری طرف شام کے حامی ممالک نہ اپنی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے۔ یہ حمایت اس وقت بھی موجود تھی جب یہ کہا جاتا تھا کہ اگلے دو، تین، پانچ یا چھ ماہ میں شام کی حکومت سرنگون ہو جائے گی لہذا اب جبکہ شام کا نظام حکومت انتہائی کٹھن اور خطرناک بحران سے کامیابی سے عبور کر چکا ہے تو یہ حمایت کیسے باقی نہیں رہ سکتی؟ اس وقت شام کے اتحادی ممالک اور اس کے علاقائی دوست اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ انہیں ہر وقت سے زیادہ شام کا ساتھ دینا چاہئے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شام میں مداخلت کرنے والے ممالک چاہے وہ خطے کے ممالک ہوں جیسے سعودی عرب، قطر، ترکی اور مصر یا چاہے یورپی ممالک اور امریکہ ہر گز مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور سیاسی راہ حل اپنانے کیلئے تیار نظر نہیں آتے تھے۔ اگر عرب لیگ میں شام کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی بات کی جاتی ہے تو وہ ایسے وقت سامنے آئی جب شام میں حکومت مخالف تکفیری دہشت گرد گروہوں کو شکست ہو چکی تھی۔ دنیا نے شام میں فوجی میدان میں شکست کے بعد جنیوا 2 کانفرنس کا رخ کیا۔ وہ ابتدا سے شام کے بحران کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ وہ صرف صدر بشار اسد کی سرنگونی کا ہی مطالبہ نہیں کرتے تھے بلکہ شام کے پورے نظام حکومت کو ختم کرنے کے خواہاں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جاری مزاحمت میں شام کا انتہائی اہم کردار رہا ہے اور شام خطے میں ایک موثر ملک ہے۔ شام مخالف اتحاد اس حقیقت کو تبدیل کرنے کی غرض سے شام کے خلاف سرگرم تھا۔ وہ جمہوریت یا عدالت کے قیام اور کرپشن کے خاتمے کیلئے یہاں نہیں آئے۔ شام کے خلاف جاری جنگ اور حکومت مخالف تکفیری دہشت گردوں کی مالی اور فوجی مدد کا واحد مقصد شام حکومت اور صدر بشار اسد کے موقف اور پالیسیوں میں تبدیلی ایجاد کرنا ہے۔

سید حسن نصراللہ نے امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے شام کے صدر بشار اسد کو اس بحران کے خاتمے کے بارے میں پیش کی جانے والی پیشکشوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ امریکہ نے صدر بشار اسد کو بعض نئی پیشکشیں کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات ختم کر دیں، اسلامی مزاحمت کی تنظیموں خاص طور پر حزب اللہ لبنان سے بھی اعلان لاتعلقی کر لیں اور اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں شمولیت اختیار کر لیں تو ملک میں جاری خانہ جنگی کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر بشار اسد کو یہ پیشکش صرف مغربی ممالک ہی نہیں بلکہ خطے کے عرب ممالک کی جانب سے بھی دی گئی ہے۔ یہ پیشکش انتہائی شدت پسندانہ ہے۔

سید حسن نصراللہ نے شام کے خلاف امریکہ کی جانب سے ممکنہ فوجی کاروائی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ امریکہ یا یورپی ممالک شام کے خلاف کسی قسم کی فوجی کاروائی نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ فیصلہ روس کی خاطر نہیں بلکہ خود امریکہ کے اندرونی حالات کی خاطر کیا ہے۔ امریکی معیشت، امریکی حکومت، خطے سے متعلق واشنگٹن کی پالیسیاں، یورپ کے اندرونی حالات وغیرہ ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ایسے افراد کا مخالف ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ امریکہ اور روس میں جنم لینے والا حالیہ تناو شام کے خلاف امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے فوجی کاروائی کے امکان میں اضافے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یوکرائن کا مسئلہ پیش نہ بھی آتا تو شام کا بحران طولانی مدت ہونا ہی تھا۔ یوکرائن کے مسئلے سے شام کے بحران پر پڑنے والے مثبت اثرات منفی اثرات سے کہیں زیادہ ہیں۔

امریکہ خطے میں جنم لینے والی تحریکوں کے مقابلے میں بوکھلاہٹ کا شکار ہے:
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں جنم لینے والی حالیہ تحریکوں نے امریکہ کو شدید بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ خطہ دو، تین، چار یا پانچ سال کیلئے جنگ کی آگ میں جلتا رہے اور اس کے بعد خطے کے بعض ممالک ٹوٹ کر چھوٹے چھوٹے نئے ممالک میں بٹ جائیں۔ ایسے چھوٹے کمزور ممالک جن کی کوئی حیثیت نہ ہو تاکہ اس طرح خطے پر امریکی تسلط کی راہ ہموار ہو سکے اور امریکہ اس خطے کے تمام قدرتی وسائل اپنے قبضے میں لے لے۔ اسی طرح اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے خطے میں فوجی اڈے قائم کر سکے۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے اس سوال کے جواب میں کہ آیا عرب اسپرنگ اسرائیل کے فائدے میں رہی یا نہیں؟ کہا کہ میری نظر میں عرب اور اسلامی دنیا اور حتی مغربی دنیا میں خطے میں جنم لینے والی تحریکوں کے بارے میں ایک نقطہ نظر موجود نہیں۔ ہم نے حزب اللہ میں اس مسئلے کی بہت جانچ پڑتال کی ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خطے میں جنم لینے والی تحریکیں حقیقی عوامی تحریکیں تھیں جنہوں نے سب کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ ان تحریکوں کے نتیجے میں کرپٹ اور کمزور حکومتیں سرنگون ہو گئیں اور یہ ان اصولوں کے تحت انجام پایا جو انسانی معاشروں پر ازل سے حکمفرما ہیں۔ 2006ء میں اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان انجام پانے والی 22 روزہ جنگ نے تیونس کے انقلابی نوجوانوں کو متاثر کیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب اقوام میں اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کی نسبت شدید نفرت پائی جاتی ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہم نے تیونس، لیبیا اور مصر میں پیدا ہونے والی تحریکوں سے سمجھ لیا تھا کہ یہ عوامی تحریکیں تھیں جنہوں نے آمر حکمرانوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ بالکل اسی طرح جیسے امریکی، فرانسوی، مغربی حکام اور بین الاقوامی برادری بھی حیرت زدہ ہو گئی۔ وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ تحریکیں اس حد تک موثر واقع ہو سکتی ہیں کہ کئی عشروں سے جاری حکومتوں کو سرنگون کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل عرب ممالک کو توڑنے کے درپے ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ عرب ممالک میں زیادہ سے زیادہ بدامنی اور خانہ جنگی پیدا کی جائے۔ لہذا وہ ہر ذریعے سے ان ممالک میں فتنہ انگیزی کرنا چاہتا ہے چاہے یہ ذریعہ مذہبی تعصب ہو یا قومی اور علاقائی تعصب۔ جو چیز اس کیلئے اہم ہے وہ یہ کہ عرب ممالک میں قتل و غارت کا سلسلہ جاری رہے کیونکہ اسی میں اسرائیل کا فائدہ ہے۔
خبر کا کوڈ : 370809
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

kahan hain woh log jo yeh kehtay thay keh arab mumalik main velvet revolution hain. haqiqi imam ka payro yeh hota hai.