0
Saturday 4 Oct 2014 07:18
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کیلئے بلوں میں لگایا جانیوالا سرچارج غیر قانونی قرار

امریکی و سعودی پریشر، نواز حکومت نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پس پشت ڈال دیا

امریکی و سعودی پریشر، نواز حکومت نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پس پشت ڈال دیا
رپورٹ: این ایچ نقوی

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ نواز حکومت نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ میں عملی طور پر کوئی دلچسپی نہیں لی، وزارت خارجہ کو محتاط رویہ اختیار کرنے کا کہا جاتا رہا، ذرائع کے مطابق وزیراعظم سعودی عرب کے ساتھ منصوبہ کو زیر التوا رکھنے کا وعدہ کر آئے، تاہم پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کے حوالہ سے ریاستی وعدوں اور ضمانتوں سے روگردانی کی سزا پر سعودیہ نے پاکستان کو مدد کی یقین دہانی کرائی، باوثوق سفارتی ذرائع کے مطابق منصوبے پر پس پردہ پاک ایران روابط کشیدہ ہیں، ایران نے منصوبے کی تاریخ میں توسیع، جرمانہ کی معافی، مغربی پابندیوں کے اختتام پر تکمیل کی پاکستانی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا، ایران نے پاکستان کی بجائے دیگر ممالک کو گیس بیچنے کے لئے متبادل منصوبوں پر غور شروع کر دیا، جبکہ سعودی عرب اور امریکہ ایران کی بجائے تاپی منصوبے پر جلد عمل درآمد کے خواہاں ہیں۔

یاد رہے کہ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کا آغاز 90 کی دہائی میں ہوا، 2012ء منصوبے کو ہر صورت مکمل کرنے کے دعوے ہوئے، لیکن امریکی اور سعودی دباو کے باعث منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا، منصوبہ کی تکمیل کے لئے 31 دسمبر 2014ء کی حتمی تاریخ میں تاحال توسیع نہیں ہوسکی، گیس پائپ لائن کی عدم تکمیل پر ماہانہ 3 لاکھ ڈالر یومیہ جرمانے کی تلوار بھی تاحال لٹک رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند وزراء پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پر حکومت کو گمراہ کرتے رہے، ایران نے بھی پاکستان کی عدم دلچسپی کے باعث دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے، اس معاہدہ میں عدم دلچسپی سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ نواز شریف حکومت امریکہ اور سعودی عرب کی تابع فرمان ہے اور اسے پاکستانی عوام کے مفاد کی کوئی فکر نہیں۔

دوسری جانب موجودہ حکومت کی کرپشن، بددیانتی اور گلو کریسی کا پردہ عدالت میں اس وقت چاک ہوگیا جب لاہور ہائی کورٹ نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کے لئے پاکستان کے غریب عوام سے گیس بلوں میں انفراسٹرکچر اور ڈویلپمنٹ کی مد میں اضافی سرچارج کی وصولی روک دی، عدالت عالیہ نے گیس کے بلوں میں عائد انفراسٹرکچر سرچارج کی وصولی کا اقدام اور آرڈینس کالعدم قرار دے دیا، اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ کئی سالوں سے یہ سرچارج عوام سے وصول کیا جا رہا ہے، تاکہ ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے۔ نواز حکومت جو اس سے قبل پاکستان کے غریب عوام کو قرض اتارو ملک سنوارو کے نام پر لوٹ چکی ہے، اسی طرح حالیہ دور میں بھی بڑے بڑے منصوبوں میں کرپشن اور رشوت کے ذریعہ دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے، جس کی ایک مثال واضح کی گئی۔
خبر کا کوڈ : 413082
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے