0
Wednesday 3 Dec 2014 23:49

داعش کیخلاف ایرانی کارروائی مثبت قدم، تہران کیساتھ ہماری کوئی فوجی ہم آہنگی نہیں ہے، جان کیری

داعش کیخلاف ایرانی کارروائی مثبت قدم، تہران کیساتھ ہماری کوئی فوجی ہم آہنگی نہیں ہے، جان کیری
اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ داعش کی نابودی کے لئے صرف فوجی اقدام کافی نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز برسلز میں داعش مخالف اتحادیوں کے ساتھ ہونے والی ایک نشست میں کیا۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس نشست میں موجود تمام شرکت کنندگان نے ایک مشترکہ بیانیہ جاری کیا ہے، اس بیانیہ میں داعش مخالف اتحاد کے تمام اراکین نے داعش کے خلاف اس اتحاد کی کارروائیوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے، بیانیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ داعش کی زہرآلود آئیدیالوجی سے مقابلے کی ضرورت ہے، اسی طرح داعش کی مالی امداد کے ذرائع کو بند اور اس دہشتگرد گروہ میں نئے شامل ہونے والے افراد کو روکنا ہوگا۔
 
امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے آج عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عراق میں موجود دہشتگردوں گروہوں سے نمٹنے کیلئے عراق کا اتحاد بہترین راہ حل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت عراق نے اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ہیں۔ عراق میں داعش کے خلاف ہونے والے ہوائی حملوں کے حوالے سے جان کیری کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے ہیں اور دہشتگرد گروہ کی پیش قدمی رک گئی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں کی آزادی کے بعد وہاں انفرا اسٹریکچر کی تعمیر کا بھی کوئی پروگرام ہے تو امریکہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے آج عراقی وزیراعظم کے ساتھ ہونے والے ملاقات میں بات چیت ہوئی ہے۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ عراقی وزیراعظم اس توقع کا اظہار کر رہے ہیں کہ خطے کے ہمسائیہ ممالک اس حوالے سے ضروری مالی وسائل کی فراہمی میں مدد اور تعمیر و ترقی کے کام میں ہمکاری کریں گے۔

بلومبرگ کے خبرنگار کے اس سوال کے جواب میں کہ ایسی رپورٹس منتشر ہوئی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ ایران نے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے کئے ہیں اور کیا ایران اور امریکہ کے درمیان فوجی ہمکاری کا وقت آن پہنچا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں عراق میں دیگر ممالک کی کارروائیوں کے بارے میں اظہار نظر نہیں کرنا چاہتا، کیونکہ یہ عراقی حکومت کا حق ہے کہ وہ اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرے۔ جان کیری کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اقدامات عراقی حکومت کے ساتھ ہم آہنگ کرتے ہیں اور عراقی حکومت سے بھی توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس ہم آہنگی کے حوالے سے ضروری اقدام انجام دے گی۔ امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی حوالے سے ہماری ہم آہنگی یا عدم ہم آہنگی کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ابھی تک ایران کے ساتھ ہماری فوجی ہم آہنگی نہیں ہے اور اس حوالے سے فی الحال کوئی پروگرام بھی نہیں ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بغیر کچھ کہے یہ واضح ہے کہ اگر عراق کے کسی خاص علاقے میں ایران داعش کیخلاف کوئی کارروائی کرے اور یہ داعش تک محدود اور موثر ہے تو بطور کلی یہ ایک مثبت اقدام ہوگا۔ لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جسے ہمیں ہم آہنگ کرنا ہے، کیونکہ ایسا کرنا یا نہ کرنا عراقی حکومت کی مرضی اور انتخاب ہے۔

دیگر ذرائع کے مطابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے فضائی حملوں کے ذریعے داعش کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے برسلز میں داعش کیخلاف جاری جنگ میں شریک اتحادی ممالک کے اجلاس کے دوران بتایا کہ آئی اس آئی ایس کے خلاف ہر محاذ پر کامیابی مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک فیصلہ کن برتری حاصل نہیں ہوجاتی۔ جان کیری نے بتایا کہ فضائی حملوں کے باعث داعش کیلئے اپنے جنگجوؤں کو جمع کرنا، انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا اور منظم حملے کرنا مشکل ہوچکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے آئی ایس آئی ایس کو تمام اتحادی ممالک کے لئے یکساں خطرہ قرار دیا۔
خبر کا کوڈ : 423174
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب