0
Tuesday 20 Jan 2015 13:52

وفاق و سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث لیاری ایکسپریس وے 11سال بعد بھی نامکمل

وفاق و سندھ حکومت کی نااہلی کے باعث لیاری ایکسپریس وے 11سال بعد بھی نامکمل
اسلام ٹائمز۔ وفاق و سندھ حکومت کی غفلت اور نااہلی کے باعث لیاری ایکسپریس وے کا تعمیراتی کام اور متاثرین کی نوآبادکاری کا منصوبہ 11 سال گذر جانے کے باوجود مکمل نہ کیا جا سکا، لیاری نوآبادکاری منصوبے میں 5 ارب روپے خرچ کئے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 3 ارب روپے درکار ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی جانب سے کرپٹ و نااہل افسران کی تعیناتی کے باعث لیاری نوآبادکاری منصوبے میں کروڑوں روپے کرپشن کی نذر اور پلاٹوں میں بڑے پیمانے پر گھپلے کئے جا چکے ہیں، سینکڑوں متاثرین، بیوائیں، یتیم اور مسکین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جبکہ غیر متعلقہ افراد کو زمین الاٹ کر دی گئی ہیں، منصوبے کے آغاز میں متاثرین کی تعداد صرف 16 ہزار تھی تاہم اب 30 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ لیاری نوآبادکاری منصوبہ میں گھپلوں کے باعث لیاری ایکسپریس وے منصوبہ بھی التواء کا شکار ہے، تاخیر کے باعث دونوں منصوبوں پر آنے والی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ منصوبے سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ لیاری ایکسپریس وے کا جنوبی حصہ 2008ء میں مکمل کیا گیا، تاہم شمالی حصہ درکار اراضی اور فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے نامکمل ہے۔

رواں مالی سال میں وفاقی حکومت نے لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر کے لئے صرف ایک کروڑ مختص کئے جبکہ منصوبہ مکمل کرنے کے لئے 4 ارب روپے مزید درکار ہیں۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق رائٹ آف وے نہ ملنے کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہے، صرف 2.2 کلومیٹر رائٹ آف وے درکار ہے، منصوبہ ایک سال میں مکمل کر دیں گے، تاخیر کے باعث لیاری ایکسپریس وے کی لاگت 12 ارب روپے جبکہ نو آبادکاری منصوبے کی لاگت 8 ارب روپے ہو چکی ہے۔ لیاری ایکسپریس وے منصوبہ 2002ء میں شروع ہوا اور تعمیراتی کام 2004ء میں مکمل کیا جانا تھا، تاہم متاثرین کی نوآبادکاری میں تاخیر کی وجہ سے یہ منصوبہ طویل عرصے التواء کا شکار رہا۔ وفاقی حکومت نے لیاری منصوبے کے متاثرین کی نوآبادکاری کے لئے کئی بار فنڈز بھی جاری کئے، تاہم لیاری نوآبادکاری منصوبے کے افسران و عملے کی مالی بے قاعدگیوں کے باعث فنڈز کا منصفانہ استعمال نہ کیا جا سکا، جس سے متاثرین کی نوآبادکاری کا عمل پورا نہ ہو سکا۔

علاوہ ازیں متاثرین کی نوآبادکاری کے لئے ہاکس بے اسکیم، تیسر ٹاؤن اور بلدیہ ٹاؤن میں مختص اراضی میں بڑے پیمانے پر گھپلے کئے گئے اور رہائشی و تجارتی پلاٹس کی غیر قانونی طریقے سے فروخت کی گئی۔ واضح رہے کہ لیاری نو آبادکاری منصوبہ سندھ حکومت کی زیرنگرانی ہے، جبکہ لیاری ایکسپریس وے منصوبے پر تعمیراتی کام نیشنل ہائی وے اتھارٹی انجام دے رہا ہے، جو ایک وفاقی ادارہ ہے۔ صوبائی حکومت کے متعلقہ افسران نے بتایا کہ 29 ہزار سے زائد متاثرین کی نوآبادکاری مکمل کی جا چکی ہے، ایک ہزار سے زائد متاٖثرین کی منتقلی کے لئے کام جاری ہے، اس ضمن میں وفاقی حکومت نے 20 کروڑ روپے جاری کر دیئے ہیں، جلد ہی درکار زمین این ایچ اے کے حوالے کر دی جائے گی۔
خبر کا کوڈ : 433878
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب