0
Thursday 26 Feb 2015 11:18

بھارتی پیشکش پاکستان کے اصولی موقف اور عالمی دبائو کا نتیجہ ہے، حریت رہنما

بھارتی پیشکش پاکستان کے اصولی موقف اور عالمی دبائو کا نتیجہ ہے، حریت رہنما
اسلام ٹائمز۔ کشمیری لیڈرشپ نے بھارت کی جانب سے کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کی پیشکش کو امریکی دبائو اور پاکستانی حکومت کے جرات مندانہ اصولی موقف کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ عالمی دبائو نے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے لہذا اب مذاکرات کی پیشکش کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پاکستان کو اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا اور مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔ حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما میرواعظ عمر فاروق نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے دو نہیں تین فریق ہیں لہذا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر پر مذاکراتی عمل میں کشمیریوں کو شامل کیا جانا چاہیے۔

میر واعظ نے کہا کہ پاکستان سے مذاکراتی عمل ختم کرنے کے بعد مودی سرکار کی ہندوستان کے اندر بھی سبکی ہوئی اور عالمی دبائو بھی ہندوستان پر کارگر رہا۔ انھوں نے کہا کہ صدر اوبامہ نے اپنے دورہ بھارت میں براہ راست کشمیر کا نام تو نہیں لیا البتہ انھوں نے ہندوستان کو باور کرایا تھا کہ علاقائی امن کے لیے ہندوستان کو اپنے ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات قائم کرنے ہوں گے اور خصوصا پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت بنیادی ایشوز پر بات چیت کا عمل آگے بڑھانا ہو گا۔ میرواعظ نے کہا کہ اگر مذاکراتی عمل کارگر ہوتا ہے تو اس سے اچھی بات کوئی نہیں یہ خود ہندوستان کے مفاد میں بھی ہو گا۔ کشمیری عوام اپنے مسائل کے حل کے لیے پاکستانی لیڈرشپ کی جانب دیکھتے ہیں۔

جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے سربراہ سید شبیر شاہ نے اپنے خطاب میں بھارت کی جانب سے مذاکراتی عمل کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس کا کریڈٹ پاکستان کی حکومت کو دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ گذشتہ 5 فروری کو وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور سیاسی لیڈرشپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اختیار کیے جانے والے موقف کا اثر ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ مودی سرکار سے اقتدار کر نشہ اترنا شروع ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان اگر مسئہ کشمیر پر جم جائے تو ہندوستان ہمیشہ کے لیے تھم جائے گا اور مسئلہ کے حل پر پیشرفت ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح خصوصا امریکہ اور یورپین یونین کی جانب سے آنے والے دبائو کو اب مسئلہ کے حل کے لیے بروئے کار لانا چاہیے اور اس میں بنیادی کردار پاکستان کا ہو گا۔
خبر کا کوڈ : 443264
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب