0
Tuesday 3 Mar 2015 10:21

بھارت مذاکراتی عمل میں سنجیدہ ہے تو جموں و کشمیر کو متنازعہ خط تسلیم کرے، حریت رہنما

بھارت مذاکراتی عمل میں سنجیدہ ہے تو جموں و کشمیر کو متنازعہ خط تسلیم کرے، حریت رہنما
اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ کشمیر میں حریت رہنمائوں نے بھارت سے کہا ہے کہ اگر وہ مسئلہ کشمیرکو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو وہ پہلے جموں و کشمیر کو متنازعہ خط تسلیم کرے۔ حریت رہنما نئے کٹھ پتلی وزیراعلی مفتی محمد سعید کے اس بیان پر تبصرہ کر رہے تھے جس میں انھوں نے حریت قیادت سے مذاکرات کو کشمیر میں امن قائم کرنے کے لیے لازمی قرار دیا تھا۔ سید علی گیلانی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ مذاکرات کے خلاف نہیں لیکن بھارت کو مذاکرات سے پہلے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ماضی میں بھی مذاکرات ہوئے لیکن کوئی نتجہ برآمد نہیں ہوا۔ تنازعہ کشمیر ایک حقیقت ہے اور بھارت کو اسے تسلیم کرنا چاہیے۔ سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو مذاکراتی عمل شروع کرنے سے پہلے تنازع کشمیر کی بنیادی حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہیے۔ بی جے پی کو تسلیم کرنا چاہیے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس پر بھارت نے غیرقانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج پر اپنے بیان میں وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ہماری حکومت اور بی جے پی کا مفتی سعید کے حالیہ بیان سے کوئی تعلق نہیں۔ مفتی سعید کا بیان ان کا ذاتی موقف ہو سکتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 444504
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش