0
Wednesday 4 Mar 2015 16:07

بلوچستان اسمبلی، اندرون صوبہ پروازوں کا سلسلہ شروع کرنیکی قرارداد متفقہ طور پرمنظور

بلوچستان اسمبلی، اندرون صوبہ پروازوں کا سلسلہ شروع کرنیکی قرارداد متفقہ طور پرمنظور
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ تا اسلام آباد براستہ ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور، تربت، کوئٹہ، کراچی کے لئے روزانہ کی بنیاد پر پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے سے متعلق ترمیمی قرار داد اکثریت رائے سے منظور کرلی۔ قرارداد وزیراعلٰی کے مشیر حاجی اکبر آسکانی، ڈاکٹر رقیہ ہاشمی کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی صدر شیخ جعفر خان مندوخیل نے کی جبکہ وزیر صحت رحمت بلوچ کی جانب سے پیش کی گئی۔ ترامیم کے بعد قرارداد کی منظوری دیدی گئی۔ اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹے 10 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئرمین کے رکن منظور کاکڑ کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد وقفہ سوالات کے موقع پر صوبائی وزیر کی عدم موجودگی کے باعث سوالات کو اگلے اجلاس کے لئے موخر کردیا گیا۔ جس کے بعد شیخ جعفر خان مندوخیل نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ تا ژوب ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور تا اسلام آباد ہوئی سفر خصوصی اہمیت کے حامل ہونے کی بناء پی آئی اے کی کوئٹہ تا اسلام آباد براستہ ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور شیڈول کے مطابق ہفتہ میں تین پروازوں کو بلاوجہ محدود کرتے ہوئے صرف ایک دن مقرر کیا گیا ہے۔ جس سے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ لہذٰا یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتا ہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ کوئٹہ تا اسلام آباد براستہ ژوب، ڈیرہ اسماعیل خان اور پشاور پی آئی اے کی پروازوں کو سابقہ شیڈول کے مطابق بحال کیا جائے تاکہ عوام کو ہوائی سفر میں درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

قرارداد پر جعفر خان مندوخیل کے علاوہ رحمت بلوچ، حسن بانو رخشانی، سردار عبدالرحمن کھیتران، ڈاکٹر شمع اسحاق، راحیلہ درانی، زمرک اچکزئی، حمل کلمتی، ڈاکٹر حامد اچکزئی، یاسمین لہڑی، ڈاکٹر رقیہ ہاشمی، مفتی گلاب، نصراللہ زیرے نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دیگر شعبوں کی طرح پی آئی اے بھی بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظلم و زیادتی کررہی ہے۔ کوئٹہ تا ژوب اور کوئٹہ، گوادر ، تربت کے لئے ماضی میں روزانہ کی بنیاد پر فلائٹس ہوتی تھیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء ان فلائٹس کو ختم کردیا گیا۔ اب بمشکل ہفتے میں ایک فلائٹ ہوا کرتی ہے۔ اس طرح کوئٹہ کے لئے آنے والی بین الاقوامی پروازوں کا سلسلہ بھی ختم کردیا گیا ہے۔ پی آئی اے کے حوالے سے کئی بار اسمبلی میں قراردادیں پیش ہوئی ہیں لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا۔ ایک جانب تیل سستا ہورہا ہے دوسری جانب پی آئی اے کرایوں میں مسلسل اضافہ کررہی ہے۔ پرائیویٹ ایئرلائنز کے کرایے پی آئی اے کے مقابلے میں بہت کم ہیں۔ مقررین نے کہا کہ گوادر ڈویژن میں پانچ ائیرپورٹ ہیں جبکہ صرف گوادر ائیرپورٹ فعال ہے جبکہ باقی غیر فعال ہیں۔ اسی طرح بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ائیرپورٹس تو قائم کئے گئے ہیں عملہ بھی موجود ہے اور تنخواہیں بھی لے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود مسافروں کو لانے اور لے جانے کی سہولت نہیں دی جارہی۔ پروازوں پر کوئی اضافی خرچہ نہیں آتا بلکہ اگر روزانہ فلائٹ چلے گی تو ادارے کو زبردست مالی فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم وسیع تر ساحل وسائل کے مالک ہیں لیکن اس کے باوجود معمولی معمولی مسائل کے لئے ہم وفاق کی جانب دیکھتے ہیں۔

اسمبلی سے کئی بار قراردادیں پاس ہوئی ہیں لیکن کوئی عملدرآمد نہیں ہورہا۔ پی آئی اے سمیت دیگر وفاقی ادارے بلوچستان کو ایک اکائی کی اہمیت نہیں دے رہے۔ ماضی میں گوادر سے مسقط کے لئے دو فلائٹس ہوا کرتی تھیں لیکن اب وہ بھی بند کردی گئی ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں کا لاہور، اسلام آباد اور کراچی سے فاصلہ ہزاروں کلو میٹر ہے۔ اول تو شاہراہیں ہی نہیں اگر تھوڑی بہت ہیں تو وہ غیر محفوظ ہیں۔ محفوظ سفر کے لئے پرواز ہی ایک ذریعہ رہ گیا تھا جو حکام کی بددیانتی کی وجہ سے بلوچستان کے عوام کو محروم کردیا گیا ہے۔ پی آئی اے حکام بلوچستان کو کالا پانی سمجھ رہے ہیں۔ اگر وہ ہمیں سہولتیں نہیں دے سکتے تو اپنے دفاتر بند کرنا چاہیے۔ ہم ان کے بغیر بھی گزارہ کرلیں گے۔ بلوچستان اور خاص کر ژوب کی بڑی تعداد میں لوگ عرب امارات میں محنت مزدوری کررہے ہیں۔ ہر ہفتے بڑی تعداد میں لوگ آتے اور جاتے ہیں۔ عرب امارات کی جانب سے کوئٹہ آنے والی فلائٹ کی سہولت کو ختم کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے اب مسافر پہلے کراچی ، پھر کوئٹہ اور بعد میں ژوب پہنچتے ہیں۔ اس موقع پر اسپیکر نے قرارداد ایوان میں پیش کی جسے ایوان نے بھاری اکثریت سے منظور کرلیا۔
خبر کا کوڈ : 444831
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب