0
Friday 6 Mar 2015 02:19
سانحہ شکارپور میں ملوث گرفتار دہشتگردوں کو سیاست دانوں کی سرپرستی حاصل ہے

کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی تیز نہ ہوئی تو تحریک دوبارہ شروع ہوجائیگی، علامہ مقصود ڈومکی

حکومت چاہے وفاقی ہو یا صوبائی اس کی رٹ اسکے ہاتھ سے نکل چکی ہے
کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی تیز نہ ہوئی تو تحریک دوبارہ شروع ہوجائیگی، علامہ مقصود ڈومکی
اسلام ٹائمز۔ وارثان شہداء کمیٹی شکارپور نے وزیراعلٰی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وعدے کے مطابق کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کو تیز کریں، سندھ کے تمام اضلاع میں موجود جھنڈے اتروا کر وال چاکنگ ختم کرائی جائے، ورنہ دوبارہ مزاحمتی تحریک شروع کر دی جائے گی، سندھ اور بلوچستان کی حکومتیں سرحدوں پر سکیورٹی کے انتظامات سخت کریں، علمائے کرام اور دیگر اہم شخصیات کو تحفظ فراہم کیا جائے اور ہم نے جو مطالبات پیش کئے تھے ان پر فوری عملدرآمد کیا جائے، حب میں ڈاکٹر قاسم شاہ ک شہادت انتہائی قابل مذمت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سکھر کی امام بارگاہ غریب آباد میں وارثان شہداء کمیٹی شکارپور کے چیئرمین علامہ مقصود علی ڈومکی نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ 6 مارچ کو سانحہ شکارپور کے شہداء کا چہلم منایا جائے گا، جس میں ملک بھر سے علمائے کرام اور سیاسی و سماجی رہنماء شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلٰی سندھ نے مدارس سے اسلحہ برآمد کرنے کا جو دعویٰ کیا تھا، وہ قوم کے سامنے لایا جائے اور ان مدارس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مولانا مقصود ڈومکی نے پریس کانفرنس کے دوران شکارپور پولیس کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی میں پیشرفت کو بھی سراہا۔

دریں اثنا رانی پور کی مدنی مسجد میں کارکنان و صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ جن مدرسوں میں قرآن اور دین کی تعلیم دی جاتی ہے، وہ مدارس احترام کے لائق ہیں، اور جن مدارس میں دھماکوں اور انسانیت کے قتل کی تربیت دی جاتی ہے، وہ مدارس نہیں دہشتگردوں کے ٹھکانے ہیں، سندھ میں ایک دو نہیں بلکہ بڑی تعداد میں غیر رجسٹرڈ مدارس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ شکارپور کے بعد سندھ حکومت کو فوری طور پر اندرون سندھ آپریشن کرنے کی ضرورت تھی، لیکن سندھ حکومت اندھی اور گونگی ہوچکی ہے، اس کو عوام کی جان و مال کی فکر نہیں، سندھ حکومت میں بیٹھے نمائندگان صرف اپنے گھر بھرنے کیلئے اقتدار میں آئے ہیں۔ علامہ مقصود ڈومکی کا کہنا تھا کہ کراچی میں وزیراعلٰی ہاؤس پر دھرنا دینے کا مقصدر صرف یہ تھا کہ سندھ حکومت اپنا قبلہ درست کرے اور شہداء کے ورثا کے ساتھ انصاف کیا جائے، لیکن حکومت کے دعوے دعوے ہی رہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرون سندھ پاک فوج کے آپریشن کی سخت ضرورت ہے، کیونکہ رینجرز اور پولیس سے بات آگے بڑھ چکی ہے، ہم کسی ایک فرد یا جماعت کی بات نہیں کرتے، جو بھی مجرم ہے، اس کیخلاف کارروائی کی جائے۔ علامہ مقصود ڈومکی نے مزید کہا کہ سانحہ شکارپور میں ملوث دہشتگرد گرفتار تو ہوچکے ہیں، لیکن ان کو سیاست دانوں کی سرپرستی حاصل ہے، کوئی بھی سانحہ ہو، سب کا مقدمہ فوجی عدالتوں میں چلنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی آپریشن جاری رہنے کے بعد بھی کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، حکومت چاہے وفاقی ہو یا صوبائی، اس کی رٹ اسکے ہاتھ سے نکل چکی ہے۔
خبر کا کوڈ : 445220
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب