0
Thursday 2 Apr 2015 23:30

ایران اور فائیو پلس ون گروپ کے درمیان جوہری معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا

ایران اور فائیو پلس ون گروپ کے درمیان جوہری معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا
اسلام ٹائمز۔ امریکہ، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر پانچ عالمی طاقتوں نے کہا ہے کہ تہران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے وہ ایک معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں۔ لوزان میں 26 مارچ سے جاری آٹھ روزہ مذاکرات کے بعد جوہری معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا۔ مذاکرات کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فریڈریکا مغیرینی کا کہنا تھا کہ معاہدے کے اہم نکات پر تمام فریقین کا اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کم کر دی جائے گی جبکہ پہلے سے افزودہ کی گئی یورینیم کی طاقت میں بھی کمی لائی جائے گی۔ معاہدے حتمی متن تیس جون تک مکمل کر لیا جائے گا اور اسے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی ضمانت حاصل ہوگی۔ معاہدےکے تحت ایران کی جوہری تنصیبات اور یورینیم کی افزودگی کے عمل کی نگرانی آئی اے ای اے سے کرائی جائے گی۔ معاہدے کی پاسداری اور آئی اے ای اے کی جانب سے تصدیق پر ایران پر سے امریکی اور یورپی ممالک کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں اٹھالی جائیںگی۔

امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے ٹوئیٹ پیغام میں کہا کہ یہ ایک "بڑا" دن ہے کیونکہ عالمی طاقتیں اور ایران نے جوہری پروگرام کے مسائل سے متعلق اصول طے کر لئے ہیں اور حتمی ڈیل کے لئے جلد کام ہوگا۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے ٹوئیٹ پیغام میں کہا ہے کہ معاہدے کا مسودہ تیس جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔ جرمن وزارت خارجہ کا بھی کہنا ہے کہ ایک معاہدے کے مرکزی نکات پر اتفاق ہوگیا ہے۔ لوزان میں ایران کی جانب سے مذاکرات میں شریک وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ مسائل کا حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ جامع معاہدے کے تحت ایران کے خلاف اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی تمام قراردادیں کالعدم قرار دی جائیں گی، جبکہ ایران ایک جوہری پلانٹ پر یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدے پر متفق ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا سے تعلقات بھی معمول پر آجائیں گے۔ ان کے بقول اس معاہدے کا ایران اور امریکہ کے تعلقات سے کوئی تعلق نہیں، ہمارے واشنگٹن سے سنجیدہ اختلافات ہیں۔

ادھر امریکی صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ ایران سے سمجھوتےکا فریم ورک بنالیا، اب تہران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے روکا جاسکے گا۔ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کی جانب سے جوہری تنازع پر معاہدے کے فریم ورک پر اتفاق کے حوالے سے وائٹ ہائوس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ جوہری معاہدے پر کافی عرصے سے ایران کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے، جبکہ امریکہ نے ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر سمجھوتہ اچھا ہے، جس کے تحت ایرانی جوہری پروگرام کا معائنہ بڑھایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے مطابق ایران کو ایٹمی پروگرام محدود کرنا ہوگا اور وہ جوہری بم نہیں بنا سکے گا۔ باراک اوبامہ نے کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام کی کڑی نگرانی کی جائے گی، کوئی مشتبہ چیز دیکھی تو معائنہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ عبوری سمجھوتے سے ہمارے مقاصد پورے ہوگئے، کیونکہ ایران کو یورینیم افزودگی کی شرح مقررہ حد تک لانی ہوگی، جبکہ جون تک معاہدے کی تفصیلات طے کرلی جائیں گی، جس کے تحت 10سال تک ایران کوئی ایٹمی ری ایکٹر قائم نہیں کرسکے گا۔

دیگر ذرائع کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کیلئے چھ عالمی طاقتیں سوئٹزرلینڈ میں اکٹھی ہوئیں۔ 26 مارچ سے جاری طویل مذاکرات اور بات چیت کے بعد بالآخر ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کا فریم ورک طے پا گیا ہے۔ معاہدے کے تحت ایران سینٹری فیوجز کی تعداد 19 ہزار سے کم کرکے 6 ہزار کرے گا۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزین میں ایران اور یورپین یونین کے درمیان گذشتہ 8 روز سے طویل مذاکرات جاری تھے۔ یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف فیڈریکا موگیرینی کا کہنا تھا کہ ایران کے افزودگی کی صلاحیت اور ذخیرے کو محدود کیا جائے گا اور ایران کے جوہری پروگرام پر جامع معاہدہ 30 جون تک مکمل کر لیا جائے گا۔ معاہدہ کو حتمی شکل دینے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فیڈریکا موگیرینی کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کے حوالے سے ''فیصلہ کُن قدم'' اٹھایا گیا ہے۔

اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کئے گئے ایک پیغام میں ایرانی وزیر خارجہ جاوید ظریف کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کا حل نکال لیا گیا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اس کو ایک ''بڑا دن'' قرار دیا۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے نے بھی ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ''کسی بھی ڈیل کے تحت ایران کی ایٹمی صلاحیتوں، اس کی دہشتگردی اور جارحیت کو روکنا ہوگا۔" ادھر جرمن وزیر خارجہ نے اسے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان کامیاب مذاکرات دیا ہے۔ جوہری معاہدے کے فوری بعد ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتہ خوش آئند ہے۔ معاہدے کے مطابق ایران کو اپنا جوہری پروگرام محدود کرنا ہوگا اور یورینیم افزودگی کی شرح مقررہ حد تک لانا ہوگی۔ ایران نے اگر دھوکہ دیا تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 451672
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش