0
Saturday 2 May 2015 22:29

گوادر کاشغر روٹ تبدیل کیا گیا تو نتائج خطرناک ہونگے، میاں افتخار حسین

گوادر کاشغر روٹ تبدیل کیا گیا تو نتائج خطرناک ہونگے، میاں افتخار حسین
اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور خیبر پختونخوا کے سابقہ صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اگر گوادر کاشغر روٹ کو تبدیل کرنے کوشش کی گئی تو موجودہ حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی۔ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔ اے این پی نے گوادر کاشغر روٹ کے بارے میں کوئٹہ میں 16 مئی کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال 6 مئی کو کوئٹہ آئیں یا نہ آئیں اے این پی کے زیراہتمام اس دن شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کئے جائینگے۔ اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی نائب صدر بشریٰ گوہر، صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی، مرکزی نائب صدر سینیٹر داود ایڈووکیٹ، صوبائی جنرل سیکرٹری نظام الدین، مرکزی جوائنٹ سیکرٹری عبدالمالک پانیزئی اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اگر جمہوریت کو خطرہ ہوا تو اس کو بچانے کیلئے اے این پی سب سے پہلے کھڑی ہوگی۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ ضد نہ کریں اور سابقہ روٹ کو بحال کرکے اس پر کام شروع کردیں۔ اگر روٹ چینج کیا گیا تو اسکے بہت خطرناک نتائج برآمد ہونگے۔ پہلے یہ روٹ ایولیاں، میانوالی، ڈیرہ غازی خان، ژوب، لورالائی، کوئٹہ اور گوادر اور دیگر علاقے شامل تھے۔ مگر موجودہ حکومت برسر اقتدار آنے کے بعد اس روٹ کو تبدیل کرلیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال ابھی بھی غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ وہ عوام کو اور سیاستدانوں کو حقائق سے آگاہ کریں۔ 16 مئی کو کوئٹہ میں اے این پی کے زیراہتمام جو آل پارٹی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ق، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی، نیشنل پارٹی، مسلم لیگ نون، تحریک انصاف، سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی دعوت دی گئی ہے۔

اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے رہنماء آصف زرداری سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہمیں حوصلہ افزا پیغامات ملے ہیں۔ روٹ کی تبدیلی کے بارے میں اے این پی نے 2014ء میں پاکستان میں چین کے سفیر کو آگاہ کردیا تھا۔ اگر روٹ تبدیل کیا گیا تو یہ معاشی قتل ہوگا۔ چین کے دوہ پاکستان کے موقع پر کئی تقریبات میں سوائے پنجاب کے وزیراعلٰی کے باقی تین صوبوں وزراء اعلٰی کو نہیں بلایا گیا۔ گوادر کاشغر روٹ کی تبدیلی سے تمام کارخانے اور تمام شاہراہیں ایک صوبے میں بنائی جائینگی، باقی صوبوں کو نظر انداز کیا جائے گا۔ یہ بات ہماری سمجھ سے بالاتر ہے کہ چین نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی نئے روٹ کی تبدیلی کے مطالبے کے باوجود ابھی تک خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ان کو سب کچھ علم ہے، معلوم نہیں کہ وہ کیوں خاموش ہیں۔ ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ ہم کسی صورت میں نئے روٹ کو قبول نہیں کرینگے اور ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
خبر کا کوڈ : 457925
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب