0
Sunday 3 May 2015 21:06

بلوچستان کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے 15 ارب روپے غائب ہونیکا انکشاف

بلوچستان کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے 15 ارب روپے غائب ہونیکا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ بلوچستان کے سالانہ ترقیاتی بجٹ میں سے پندرہ ارب روپے غائب ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ وزیراعلٰی بلوچستان نے رقم کے غائب ہوجانے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ فنڈز کی کمی پوری کرنے کیلئے وفاق سے رقم مانگی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات کے سالانہ ترقیاتی فنڈز سے پندرہ ارب روپے غائب ہونے کا انکشاف بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کیا گیا۔ صوبائی وزیر کھیل و ثقافت مجیب الرحمان محمد حسنی نے نکتہ اعتراض پر نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ کہا کہ اُن کے حلقے کی ترقیاتی اسکیموں کے فنڈز کوئی وجہ بتائے بغیر بند کئے گئے ہیں، یہ عمل ناقابل برداشت ہے۔ صوبائی وزیر ریونیو و ٹرانسپورٹ جعفر خان مندوخیل نے کہا کہ ان کے حلقے کے ترقیاتی فنڈز بھی روک دیئے گئے ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ صوبائی محکمہ منصوبہ بندی اور ترقیات کے فنڈز میں سے 15 ارب روپے چوری و غائب ہوگئے ہیں، اس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے ارکان اسمبلی کے ترقیاتی فنڈ سے کٹوتی کی جائے گی۔ جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ڈپٹی اپوزیشن لیڈر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ وہ گذشتہ دو سال سے اسمبلی کے فلور پر ترقیاتی فنڈز میں خورد برد کے خلاف آواز اُٹھا رہے ہیں، مگر صوبائی حکومت نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ انہوں نے وزیراعلٰی سے مطالبہ کیا کہ فنڈز کے چوری ہونے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری آسٹریلیا چلے گئے ہیں۔ معلوم نہیں انہوں نے ترقیاتی بجٹ کی رقم کہاں خرچ کر دی ہے، ان سے پوچھا جائے۔ رکن صوبائی اسمبلی راحیلہ درانی کا کہنا تھا کہ گذشتہ بارہ سالوں میں فنڈز کے حصول کیلئے اتنی مشکلات پیش نہیں آئیں۔ جتنی ان دونوں سالوں میں پیش آرہی ہیں۔ آج دو مئی ہے لیکن اب تک ارکان اسمبلی کے مجوزہ سالانہ ترقیاتی اسکیموں کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ ہم سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ کر تھک گئے ہیں۔

صوبائی وزیر صحت رحمت بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بدامنی کا دور ہے۔ ہمارے علاقے میں بھی ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔ ارکان اسمبلی کی طرف سے 15 ارب روپے چوری ہونے کے حوالے سے اٹھائے گئے۔ نکات کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلٰی بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اُن کے علم میں ہے اور اس کی تحقیقات بھی کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے جلد ہی کابینہ کا اجلاس طلب کرکے فیصلہ کیا جائے گا کہ پیسے کہاں سے پورے کئے جائیں۔ کابینہ جو بھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا۔ وزیراعلٰی بلوچستان نے کہا کہ وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ صوبائی حکومت ترقیاتی فنڈز صحیح طریقے سے خرچ نہیں کرسکی ہے۔ لیکن وزیراعلٰی کی حیثیت سے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ تمام چیزوں کو درست کیا جائے اور فنڈز صحیح طریقے سے خرچ کئے جائیں۔ اگر ترقیاتی اسکیمیں روکی گئی ہیں تو اس کا ازالہ کرینگے۔ کوئی ڈپٹی کمشنر ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بنتا ہے تو بھی حکومت کارروائی کرے گی۔ میں نے وفاقی حکومت کو تجویز دی تھی کہ بلوچستان کو 15 ارب روپے کا امدادی پیکیج دیا جائے۔ جس میں سے تین ارب روپے کوئٹہ شہر میں پانی کی قلت ختم کرنے اور نکاسی آب کے لئے خرچ کئے جائیں گے اور باقی 12 ارب انرجی کے منصوبوں پر خرچ کئے جائیں گے۔ مگر ابھی تک وفاق نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔ ڈپٹی اسپیکر عبدالقدوس بزنجو نے رولنگ دی کہ وزیراعلٰی کی وضاحت کے بعد یہ مسئلہ نمٹا دیا جاتا ہے۔
خبر کا کوڈ : 458092
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے