0
Monday 4 May 2015 09:24

دہشت گردوں کے بڑے ردّعمل کا خطرہ تھا، اسحاق ڈار

دہشت گردوں کے بڑے ردّعمل کا خطرہ تھا، اسحاق ڈار
اسلام ٹائمز۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو وزیرستان میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے فوجی آپریشن کی وجہ سے درپیش ردعمل سے کہیں زیادہ بڑے ردّعمل کا خطرہ تھا۔ انہوں نے یہ بات یہاں ایشیائی ترقیاتی بینک کے صدر تاکے ہیکو ناکاؤ اور ہندوستانی سیکریٹری خزانہ راجیو مہارشی سے ایک بات چیت کے دوران کہی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان میں سلامتی کی صورتحال دہشت گردی کی عالمی لعنت کا نتیجہ ہے، جس نے سمندروں کا سفر کرتے ہوئے فرار حاصل کیا اور پاکستان میں پناہ لے لی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے سبب 100 ارب ڈالرز کا اقتصادی نقصان ملک کو برداشت کرنا پڑا اور ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ ’’یہ صرف پاکستان کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ علاقائی چیلنج اور عالمی لڑائی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی برادری پاکستان سے چاہتی ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کا تعاقب کرے اور ان کی پناہ گاہوں کو تباہ کردے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ مسلح افواج نے قوم اور حکومت کی مکمل حمایت کے ساتھ یہ آپریشن شروع کیا تھا اور قبائلی پٹی میں عسکریت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کرکے اس میں بہت بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے فوجی آپریشن پر 1.75 ارب ڈالرز کے اخراجات اپنے داخلی وسائل سے پورے کیے۔ اس کے علاوہ آپریشن کے بعد بحالی کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے اور سکیورٹی کی صورتحال بہت تیزی کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ وزیرستان میں ان کی پناہ گاہوں پر حملے کرتے ہیں، جہاں کے پہاڑی مقامات انہیں سرحد پار پناہ لینے میں مدد دیتے ہیں، تو ان کے ردّعمل سے بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں ایک کمیٹی، جس کے وہ خود بھی ایک رکن ہیں، نے یہ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بہت بڑے ردّعمل کا اندازہ لگایا تھا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ دسمبر میں پشاور کے اسکول کے بچوں پر ہلاکت خیز حملہ ایسے عناصر کی انتقامی کارروائی تھی، جن کی نہ تو کوئی قومیت ہے اور نہ ہی کوئی مذہب، لیکن اس طرح واقعات دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قوم، حکومت اور مسلح افواج کے عزم کو کمزور نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کی اپنے گھروں کو واپسی شروع ہو گئی ہے اور ان علاقوں میں بحالی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کے سربراہ نے کہا کہ ایشیائی ممالک آپس میں موافقت کو بہتر بنا کر، علاقائی تعاون میں اضافہ کر کے ’’اگلا ایشیائی کرشمہ‘‘ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے میں سکیورٹی کے چیلنجز اور دیگر مشکلات پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشیائی ممالک عظیم صلاحیت رکھتے ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی ماحول کے ساتھ موافقت پیدا کرنے والی محتاط اقتصادی پالیسیاں اختیار کی جائیں۔
خبر کا کوڈ : 458182
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب