0
Monday 18 May 2015 18:31
امریکہ ہر ایسی چیز کا دشمن ہے جس سے اسلام کی بو آتی ہو

برطانیہ شیعہ سنی فرقہ واریت پھیلانے کا ماہر ہے، سید علی خامنہ ای

برطانیہ شیعہ سنی فرقہ واریت پھیلانے کا ماہر ہے، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے آج صبح کرد فورسز کے شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب کیلئے ایک اہم پیغام دیا ہے، جس میں پیشمرگ کرد مسلمان فورسز کی فداکاری اور شجاعت کو سراہتے ہوئے ان کی جدوجہد کی قدردانی کی گئی ہے۔ اس پیغام میں آیا ہے، "کرد مسلمان پیشمرگ مجاہدین میدان جنگ میں حاضر ہو کر نہ صرف اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال دیتے تھے بلکہ انقلاب دشمن دہشت گرد عناصر ان کے گھر والوں کو بھی دھمکیاں دیتے رہتے تھے، لیکن اس کے باوجود ان بہادر جوانوں نے شجاعت اور فداکاری کی مثال قائم کر دی۔"

امام خامنہ ای نے عالمی استعماری قوتوں کی جانب سے "مذہب" اور "قومیت" کے نام پر کردستان کے علاقے میں بدامنی پھیلا کر انقلاب اسلامی کو نقصان پہنچانے کی تمام کوششوں کے ناکام ہو جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی سالوں کے دوران انقلاب کے دشمنوں نے کردستان کے علاقے میں بدامنی پھیلانے کی سرتوڑ کوششیں کیں، لیکن کرد عوام اور علماء دین کی ہمت اور جذبے نے ان کی تمام کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ دشمنوں نے حتٰی بعض کرد علماء دین کو بھی شہید کر ڈالا جیسا کہ چند سال پہلے مرحوم شیخ الاسلام جیسے نیک اور مخلص انسان کو شہید کیا۔"

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اپنے اس پیغام میں تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھتا اور اپنے پاس موجود وسیع سکیورٹی، پروپیگنڈہ اور مالی وسائل کے ذریعے ہر وقت دشمنانہ اقدامات کرتا رہے گا، انہوں نے کہا، "دشمن قوتیں ایران میں کرد باشندوں کے اندر قومی تعصب نہیں پھیلا سکتیں، لیکن وہ مذہبی اختلافات اور شیعہ سنی فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں اور ملک کے اندر بھی بعض غافل افراد ان کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔" ولی امر مسلمین جہان نے ان سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا: "وہ قوتیں جو بظاہر سنی مسلک کی حمایت کرتے ہوئے شیعہ مسلک کو نشانہ بناتی ہیں اور اسی طرح وہ جو شیعہ مسلک کی حمایت کرتے ہوئے سنی مسلک پر حملے کرتے ہیں، دونوں نہ شیعہ سے مخلص ہیں اور نہ سنی سے اور وہ یہ کام مذہبی محرکات کے تحت انجام نہیں دیتے۔"

ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ شیعہ سنی اختلاف اور فرقہ واریت پیدا کرنے میں برطانیہ کو خاص تجربہ اور مہارت حاصل ہے اور وہ اسے اپنے سیاسی اہداف کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے۔ امام خامنہ ای نے امریکی کانگریس کی جانب سے عراق کی اہلسنت برادری کی حمایت کیلئے اعلان کردہ منصوبے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا وہ حقیقت میں اہلسنت سے مخلص ہیں؟ انہوں نے کہا کہ امریکی حکام ہر ایسی چیز کے دشمن ہیں جس سے اسلام کی بو آتی ہو اور اس میں ان کیلئے شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں۔ ان کی نظر میں مذہب اور قومیت صرف اختلاف ڈالنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے اور اس کے علاوہ ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ 
خبر کا کوڈ : 461583
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب