0
Saturday 18 Jul 2015 11:30
ایران خطے میں اپنے دوستوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوگا

امریکا کی سامراجی حکومت سے متعلق ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، سید علی خامنہ ای

5 امریکی صدر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنیکی آرزو دل میں ہی لئے مرگئے
امریکا کی سامراجی حکومت سے متعلق ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی، سید علی خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ بعض ناپاک ہاتھوں نے خطے کے عوام کے لئے رمضان المبارک کا مہینہ تلخ کر دیا۔ ہفتے کے دن تہران میں نماز عید فطر کے خطبوں میں خطے کے بحران کی جانب اشارہ کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے دوران اور اس سے پہلے علاقائی حالات کی وجہ سے ناخوشگوار واقعات پیش آئے اور دشمنوں کے کالے کرتوتوں کی بنا پر مسلمانوں اور مومنین کو کٹھن دن گزارنا پڑے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایران اور فائیو پلس ون کے ایٹمی مذاکرات کے بارے میں ایرانی ایٹمی مذاکرات کاروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدے کا مجوزہ متن چاہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے، دونوں صورتوں میں ایرانی مذاکراتی ٹیم کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ایران کبھی بھی دشمن کی توسیع پسندی کو قبول نہیں کرے گا۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ کسی کو بھی اسلامی نظام کے بنیادی اصولوں میں خلل اور رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، دفاعی صلاحیتوں اور ملک کی سکیورٹی حدود کا تحفظ کیا جائے گا، ہر چند دشمنوں نے اس سلسلے میں بہت سی سازشیں تیار کر رکھی ہیں۔

رہبر معظم انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ ایٹمی معاہدے کا متن چاہے منظور کیا جائے یا نہ کیا جائے، ایران خطے میں اپنے دوستوں کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوگا اور ہم ہمیشہ فلسطین، بحرین ، عراق، شام اور لبنان کی اقوام کی حمایت کرتے رہیں گے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مزید کہا کہ ایٹمی مذاکرات کے مجوزہ متن کی تدوین کی وجہ سے امریکا کی سامراجی حکومت سے متعلق ایران کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی اور جیسا کہ بارہا کہا گیا ہے ایران بین الاقوامی مسائل کے سلسلے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور ایٹمی معاملے کے بارے میں اس نے مصلحت کی بنیاد پر مذاکرات انجام دیئے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے خطے سے متعلق ایران اور امریکا کی پالیسیوں کے درمیان پائے جانے والے بہت سے اختلافات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا لبنان کی استقامت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے، لیکن بچوں کی قاتل صیہونی حکومت کی حمایت کرتا ہے اور ایسی پالیسی کے ہوتے ہوئے کس طرح مذاکرات کئے جاسکتے ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے حالیہ ایٹمی مذاکرات کے بعد امریکی حکام کی رجز خوانی کے بارے میں کہا کہ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ امریکی حکام اپنی قوم کو سچ نہیں بتا رہے ہیں۔ اگر وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے تو وہ اپنی یہ آرزو خواب میں ہی پوری ہوتی دیکھ سکتے ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی سے لے کر اب تک پانچ امریکی صدر ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کی آرزو اپنے دل میں لئے مرگئے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ دنیا کی چھ بڑی اقتصادی طاقتوں نے بارہ برس تک اسلامی جمہوریہ ایران کو ایٹمی صنعت سے محروم رکھنے کی پوری کوشش کی، لیکن آج یہی طاقتیں ایران کی کئی ہزار سینٹری فیوج مشینوں اور ایران کی ایٹمی ترقی کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایرانی قوم ایک طاقتور قوم بن چکی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی فوج کو تباہ کر دینے پر مبنی امریکی صدر کے حالیہ بیانات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کوئی بھی جنگ شروع نہیں کرے گا، لیکن اگر امریکی حکام ٹھیک طرح سے سمجھنا چاہتے اور اپنے تجربات سے صحیح فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ان کو جان لینا چاہئے کہ ظالم امریکا کو ہی جنگ میں ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑے گی۔
خبر کا کوڈ : 474501
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب