0
Friday 31 Jul 2015 10:50

الطاف حسین اور مولانا فضل الرحمان کا تحریک انصاف مخالف مشترکہ مؤقف اپنانے پر اتفاق

الطاف حسین اور مولانا فضل الرحمان کا تحریک انصاف مخالف مشترکہ مؤقف اپنانے پر اتفاق
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں ڈی سیٹ کرنے کے معاملے پر مشترکہ مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو ٹیلی فون کیا، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے معاملے اور ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ الطاف حسین سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی یا اختلاف نہیں ، ہمارا مؤقف اصولی ہے، اور ہماری کمٹمنٹ آئین سے ہے، جو آئین کے تقاضوں کے تحت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی رو سے اگر کوئی رکن بغیر بتائے ایوان سے مسلسل 40 دن غیر حاضر رہے، تو ایوان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کی رکنیت ختم کر دے، جبکہ تحریک انصاف کے ارکان نے خود ہی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا، اور ایسی صورت میں آئین کا کوئی بھی گوشہ ان کو اسمبلی میں بیٹھنے کا موقع نہیں دیتا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ دھرنے سے پہلے تو اسمبلی جعلی نہیں تھی، لیکن اب جبکہ اسمبلی میں استعفے دینے والے لوگ بیٹھے ہیں، تو ہمیں اسمبلی جعلی نظر آرہی ہے۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے مولانا فضل الرحمن کے خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں آئین کے تحت اقدام ہونا چاہیے، اور ہم اس سلسلے میں اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ الطاف حسین نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ اس معاملے میں آپ کا اور ہمارا مؤقف ایک ہے، جبکہ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ اس معاملے پر دونوں جماعتیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں گی۔
خبر کا کوڈ : 477059
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب