0
Sunday 2 Aug 2015 20:32

مسلح افواج کو سلام اور سیلوٹ پیش کرکے غلطی کی، اللہ مجھے معاف فرمائے، الطاف حسین

مسلح افواج کو سلام اور سیلوٹ پیش کرکے غلطی کی، اللہ مجھے معاف فرمائے، الطاف حسین
اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ مسلح افواج کو سلام اور سیلوٹ پیش کرکے بڑی غلطی کی، اللہ اس پر مجھے معاف فرمائے، اگر بھارت میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو پاکستان میں مہاجروں کا قتل نہ ہوتا، میرے خلاف غداری کے مقدمات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اکیلا الطاف حسین 5 لاکھ فوج سے ڈرتا ہے یا 5 لاکھ فوج الطاف حسین سے ڈرتی ہے، گریٹر بلوچستان بنے گا، گریٹر پختونستان بھی بنے گا اور گریٹر پنجاب بھی ہوگا، جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی ہوگا، کارکن منی ٹرانسفر کمپنیوں کے ذریعے چندے بھیجیں، میں دیکھتا ہوں کہ کون روکتا ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکا کے شہر ڈیلاس میں ایم کیو ایم امریکا کے سالانہ کنونشن کے موقع پر ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔ الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مخالفین الزام لگاتے ہیں کہ جب سے الطاف حسین اور ایم کیو ایم آئی ہے، کراچی کا امن خراب ہوگیا، لیکن وہ 1965ء میں کراچی میں آبادیوں پر مسلح حملے کا کوئی ذکر نہیں کرتے، حالانکہ اس وقت الطاف حسین کی عمر محض 12 سال تھی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ایم کیو ایم کے ہزاروں بے گناہ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر معذور اور درجنوں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا، کئی کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں، اگر بھارت میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو پاکستان میں مہاجروں کا قتل نہ ہوتا۔

الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم امریکا کے کارکن اقوام متحدہ اور نیٹو کے ہیڈ کوارٹر پر جا کر انہیں مہاجروں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کریں، اور ان سے کہیں کہ وہ کراچی میں اقوام متحدہ یا نیٹو کی فوج بھیجیں، تاکہ وہ وہاں معلوم کریں کہ کس نے قتل عام کیا اور کون کون اس کا ذمہ دار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو پوری دنیا مٹانا بھی چاہے تو مٹا نہیں سکتی، آج پاکستان کی ایک عدالت میں میرے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے، جبکہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے اقدام قتل کے مقدمے میں مجھے مفرور قرار دے دیا ہے، میں 37 برسوں سے مظلوموں اور محروموں کے حقوق کی جدوجہد کر رہا ہوں، اس جدوجہد کی پاداش میں مجھ پر سینکڑوں جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے، اور قید و بند کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن کوئی ہتھکنڈہ میرے حوصلے پست نہیں کر سکا، گزشتہ دنوں میرے خلاف ملک بھر میں ڈیڑھ سو سے زائد غداری کے مقدمات قائم کئے گئے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اکیلا الطاف حسین 5 لاکھ فوج سے ڈرتا ہے یا 5 لاکھ فوج الطاف حسین سے ڈرتی ہے۔

متحدہ قائد نے کہا کہ دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، گریٹر بلوچستان بنے گا، گریٹر پختونستان بھی بنے گا، اور گریٹر پنجاب بھی ہوگا، جس کا ہیڈ کوارٹر کراچی ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں لشکرِ جھنگوی اور دیگر کالعدم تنظیموں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں، بلکہ وہ آزادانہ طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ایم کیو ایم کے عہدیداروں اور کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، عیدالفطر پر کالعدم تنظیموں نے فطرہ اور صدقات جمع کئے، جب کہ ایم کیو ایم کے فلاحی ادارے کو باقاعدہ اعلان کرکے زکوٰۃ اور فطرے کے عطیات جمع کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ان پر منی لانڈرنگ کا الزام لگایا گیا، خدا جانتا ہے کہ یہ رقم کارکنوں کی دی ہوئی امانت تھی، اور کچھ رقم مشکل وقت کے لئے بچا کر رکھی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن میں ایم کیو ایم کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے بہت مشکل سے گزارا ہو رہا ہے، کارکن منی ٹرانسفر کمپنیوں کے ذریعے چندے بھیجیں، میں دیکھتا ہوں کہ کون روکتا ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ میں سچی اور کھری باتیں کرتا ہوں تو مجھ پر غداری کے مقدمات بنائے جاتے ہیں، مگر مجھے ان مقدمات کی کوئی پروا نہیں، مجھے ایک بار نہیں بلکہ سو بار پھانسی دی جائے، اور اللہ مجھے سو بار نئی زندگی دے، تب بھی میں حق اور سچ کی بات کروں گا، اگر میں مار دیا جاؤں تو کارکن اس تحریک کو جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل ان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کا ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مزید صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، پاکستان میں ہر جگہ محرومی ہے، پاکستان کے موجودہ چاروں صوبوں میں نئے صوبوں کے قیام کے مطالبے موجود ہیں، خیبر پختونخوا میں ہزارہ صوبے کا مطالبہ ہے، بلوچستان میں جنوبی پشتونخوا صوبہ کا مطالبہ موجود ہے، پنجاب میں سرائیکی صوبہ، بہاولپور صوبہ اور پوٹھوہار صوبہ کی آوازیں موجود ہیں، فاٹا صوبہ کے قیام کیلئے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، اور سندھ میں کراچی صوبہ یا شہری سندھ کے صوبے کا مطالبہ بھی برسوں سے موجود ہے، جو اب شدت اختیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اسی صورت میں مضبوط ہوگا، جب مزید صوبے قائم کئے جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 477563
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب