0
Saturday 8 Aug 2015 13:47

الطاف کی اشتعال انگیز تقریر، پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کیساتھ مفاہمتی پالیسی ختم کر دی

الطاف کی اشتعال انگیز تقریر، پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کیساتھ مفاہمتی پالیسی ختم کر دی
اسلام ٹائمز۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کے قومی سلامتی کے اداروں کے بارے میں حالیہ متنازع بیانات کے بعد ایم کیو ایم کے ساتھ 7 برسوں سے زائد جاری اپنی مفاہمتی پالیسی کو تبدیل کر دیا، نئی پالیسی کے بعد پیپلز پارٹی نے جمعہ کو سندھ اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرارداد کو تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور مسلم لیگ (ف) کے ساتھ مل کر منظور کرایا، اس طرح دونوں جماعتوں کا 7 برسوں سے جاری رہنے والا مفاہمتی و اتحادی سفر اختتام پذیر ہوگیا۔ پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی ایم کیو ایم کے ساتھ اب دوستانہ سیاسی پالیسی نہیں اختیار کرے گی، بلکہ اسکی تنقید کا جواب دیا جائے گا، پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کراچی آپریشن و سیکیورٹی اداروں کی حمایت جاری رکھے گی، اور ان پر تنقید کی ہر سطح پر مذمت کی جائے گی، کسی بھی سطح سے پیپلز پارٹی حکومتی امور کیلئے ایم کیو ایم سے رابطہ نہیں کرے گی، اگر ایم کیو ایم نے قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید کی پالیسی پر نظرثانی کی، تو پھر مفاہمت کی پالیسی کے تحت بات چیت کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کراچی آپریشن اور قومی سلامتی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے متعلق ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے سخت اور منتازع بیانات کی پالیسی سامنے آنے کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، اور مشاورت میں یہ رائے سامنے آئی کہ ایم کیو ایم کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ کی پالیسی کو تبدیل کیا جائے، 2008ء میں آصف علی زرداری کے دورہ نائن زیرو کے بعد پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان اتحادی سیاست کا آغاز ہوا تھا، اور ایم کیو ایم مرکز اور سندھ حکومتوں میں شامل ہوئی۔ اس دوران کئی مرتبہ تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا، لیکن دونوں جماعتوں کی اتحادی گاڑی رواں دواں رہی، 2013ء کے انتخابات سے قبل یہ اتحاد ختم ہوگیا، اور اس الیکشن کے بعد پیپلز پارٹی نے دوبارہ سندھ حکومت کی بھاگ دوڑ سنھبالی، اور ایم کیو ایم ایک مرتبہ پھر سندھ حکومت میں شامل ہوگئی، تاہم 2014ء میں بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی کے بعد انھوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور دیگر سیاسی قائدین کیخلاف عید اور 18 اکتوبر کو عوامی اجتماعات میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا، اور جس پر ایم کیو ایم کی قیادت ناراض ہوگئی، اور 19 اکتوبر کو ایم کیو ایم نے سندھ حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی۔

اس کے بعد بلاول بھٹو زرداری بیرون ملک چلے گئے، رواں سال میں آصف علی زرداری نے ایک مرتبہ پھر الطاف حسین کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کاآغاز کرنے کیلئے رابطے کئے، ان رابطوں میں 60 اور 40 کے فارمولے کے مطابق سندھ حکومت میں شمولیت کے معاملے پر اتفاق ہوگیا، تاہم ایم کیو ایم کے ساتھ تعلقات بہتر نہ ہوسکے، اور یہ معاملات التواء کا شکار ہوگئے، سینیٹ کے الیکشن کے دوران دونوں جماعتوں میں مفاہمتی پالیسی دیکھنے میں آئی، تاہم 11 مارچ کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپے کے بعد دونوں جماعتوں میں سیاسی تعلقات کی صورتحال کشیدہ ہوگئی، اور بیان بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران طویل عرصے بعد آصف علی زرداری اور الطاف حسین کے درمیان دوبارہ رابطہ ہوا، اور مختلف امور پر ساتھ چلنے پر اتفاق ہوا، لیکن معاملات مثبت سمت میں آگے نہیں بڑھ سکے۔

کچھ عرصہ قبل بلاول بھٹو زرداری کی وطن واپسی کے بعد انھوں نے دوبارہ ایم کیو ایم کے خلاف سخت سیاسی پالیسی اختیار نہیں کی، اور تنظیمی امور پر توجہ دی۔ گذشتہ ماہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سندھ حکومت کے اداروں میں کرپشن کے خلاف کی گئی کارروائیوں پر اختیارات کے معاملے پر بھی پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا، اور دونوں جماعتیں ان اداروں کے اختیارات کے معاملے پر ساتھ نظر آئیں، لیکن الطاف حسین کی حالیہ اشتعال انگیز تقریر کے بعد پارٹی قیادت نے تفصیلی مشاورت کے بعد ایم کیو ایم کے ساتھ مفاہمتی پالیسی کو ختم کر دیا، اور سندھ اسمبلی میں قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف الطاف حسین کی حالیہ تقریر کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرائی گئی۔ واضح رہے کہ اس وقت پیپلز پارٹی کے تمام تنظیمی و سیاسی امور بلاول بھٹو زرداری دیکھ رہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 478555
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب