0
Monday 31 Aug 2015 21:11

مفاہمتی سیاست کے بادشاہ آصف زرداری پھٹ پڑے، نواز حکومت کو بھیانک نتائج کی دھمکی

مفاہمتی سیاست کے بادشاہ آصف زرداری پھٹ پڑے، نواز حکومت کو بھیانک نتائج کی دھمکی
اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے 90ء کی دہائی کی سیاست دوبارہ شروع کر دی ہے، تاہم انتقامی کارروائی کے بھیانک نتائج سامنے آئیں گے، پہلے پاک فوج کو للکارنے اور الزامات لگانے والے آصف زرداری اب نواز حکومت پر چڑھ دوڑے، اور کارروائیوں کے خلاف بھیانک نتائج کی دھمکی دے ڈالی۔ تفصیلات کے مطابق سندھ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کرپشن مافیا اور دہشت گردوں کے خلاف پے در پے کارروائیوں پر پیپلز پارٹی پھٹ پڑی، پہلے درجے اول اور دوئم کی لیڈر شپ نے سخت ردعمل کا اظہار کیا، تو اب پارٹی کے سربراہ اور کرتا دھرتا آصف علی زرداری نے ایک بار پھر توپوں کا رخ نواز حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب موڑ دیا۔ اپنے بیان میں ایک بار پھر آصف زرداری نے سخت زبان میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے نواز حکومت کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف نے نوے کی دہائی کی سیاست دوبارہ شروع کر دی، نواز لیگ نے ایک بار پھر سے پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگانے کی تیاری شروع کر دی ہے، حکومت کے اقدامات قوم کو تقسیم کر رہے ہیں۔

آصف زرداری نے کہا کہ نواز حکومت اپنے ساتھی طالبان کو تحفظ دے رہی ہے، نواز شریف دہشتگردوں کے خلاف آپریشن متاثر کرنے کیلئے قوم کو تقسیم کر رہے ہیں، اور اسی سلسلے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور علیل مخدوم امین فہیم کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے، جبکہ پہلے قاسم ضیا کو گرفتار کیا گیا، اور اب ڈاکٹر عاصم حسین کو حراست میں لے لیا گیا ہے، رانا مشہود کی وڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انہیں گرفتار نہیں کیا گیا، لیکن سندھ میں بیورو کریٹس کو نیب اور ایف آئی اے کے ذریعے ہراساں کیا جا رہا ہے، جبکہ چیف سیکرٹری سندھ و دیگر سیکرٹریز کا ضمانتوں پر ہونا انتقامی سیاست نہیں تو کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے مجسٹریٹ کے سامنے شریف برادران کے لئے منی لانڈرنگ کا اعترافی بیان دیا تھا، احتساب کرنا ہے تو مجسٹریٹ کے سامنے اعترافی بیان دینے والے وفاقی وزیر کا احتساب کیا جائے اور اس احتساب سے پتہ چلے گا کہ (ن) لیگ کتنی پارسا ہے۔

مفاہمتی سیاست کے بادشاہ آصف زرداری کا صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر مزید کہنا تھا کہ اس مشکل وقت میں نواز حکومت ساتھ دینے کے بجائے آپریشن کا حصہ بنی ہوئی ہے، انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے زرداری نے کہا کہ 2013ء کا الیکشن آر اوز کا الیکشن تھا، انتخابی دھاندلی کے باوجود پیپلز پارٹی نے نواز حکومت کا ساتھ دیا، اور نتائج تسلیم کئے، حالانکہ حالیہ ٹریبونل کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ نواز لیگ کو بیرونی مدد حاصل تھی۔ ایک جانب سندھ میں کارروائیوں پر سخت تحفظات، تو دوسری جانب زرداری صاحب نے پاک فوج کی گڈ بک میں رہنے کیلئے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی فوج کے ساتھ ہے، انہوں نے کہا کہ دشمن شہریوں پر گولے برسا رہا ہے، مگر نواز حکومت اصل دشمن کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی کو نشانہ بنا رہی ہے۔ مشرف کیساتھ کئے جانے والے معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے آصف زرداری کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ہم وہ نہیں کہ معافی نامے پر دستخط کرکے سعودی عرب بھاگ گئے تھے، قوم بخونی جانتی ہے کہ کون معافی نامے پر دستخخط کرکے ملک سے بھاگا، لگتا ہے میاں نواز شریف نے اپنے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

میثاق جمہوریت کا ذکر کرتے ہوئے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج اگر نواز شریف ملک کے وزیراعظم اور میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلٰی ہیں، تو یہ پیپلز پارٹی کے مرہون منت سے ہیں، یہ پیپلز پارٹی ہی تھی، جس نے تین دفعہ وزیراعظم بننے کی شرط پر سے قدغن ہٹائی، یہ بات جانتے ہوئے کہ اس پابندی کا سب سے زیادہ فائدہ میاں برادران کو ہی ہوگا۔ آصف زرداری نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو سامنے لایا جائے، سانحہ سے متعلق جسٹس نجفی کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لائیں، اور واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جبکہ ماضی کے گڑھے مردے اکھاڑتے ہوئے زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت اصغر خان کیس میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کرے۔ انہوں نے حکومت سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا ماڈل ٹاؤن میں خواتین سمیت 14 افراد کو قتل کرنے والے دہشت گرد نہیں، اگر ہیں تو انہیں اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا، رانا مشہود میاں برادران کے نام پر پیسے لے رہے ہیں۔ مفاہمتی سیاست کے بادشاہ نے نجومی بن کر پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ ناانصافی کی یہ کالی رات جلد ختم ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 483192
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب