0
Wednesday 23 Sep 2015 16:24
حج کی مناسبت سے ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کا پیغام

امریکہ کی شیطانی پالیسیاں اور اسرائیلی مظالم مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ ہے، امام خامنہ ای

امریکہ کی شیطانی پالیسیاں اور اسرائیلی مظالم مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ ہے، امام خامنہ ای
اسلام ٹائمز۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ولی امر مسلمین جہان آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے حج کے عظیم سیاسی و عبادی اجتماع کی مناسبت سے ایک اہم پیغام دیا ہے، جس میں "خطے میں امت مسلمہ کیلئے بڑی مشکلات پیدا کرنے کی غرض سے امریکہ کی شیطنت آمیز پالیسیاں" اور "اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے مظالم اور مسجد اقصٰی کی مسلسل بے حرمتی" کو مسلمانان عالم کا اہم ترین مسئلہ قرار دیا گیا ہے، انہوں نے تمام مسلمانوں خاص طور پر علماء اور بااثر شخصیات پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اس مسئلے کا مقابلہ کریں۔ ولی امر مسلمین امام خامنہ ای کے پیغام کا مکمل متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمان الرحیم
و الحمد للہ رب العالمین و الصلاۃ و السلام علی سید الخلق اجمعین محمد و آله الطاھرین و صحبه المنتجبین و علی التابعین لھم باحسان الی یوم الدین
سلام ہو کعبہ شریف، توحید کے مرکز، مومنین اور فرشتوں کی طواف گاہ پر، اور سلام ہو مسجد الحرام پر اور عرفات اور مشعر اور منٰی پر۔ سلام ہو خاشع قلوب پر اور ذکر میں مصروف زبانوں پر اور بابصیرت آنکھوں پر اور عبرت حاصل کرنے والے افکار پر۔ سلام ہو آپ سعادت مند حاجیوں پر جنہیں الہی دعوت پر لبیک کہنے کی توفیق حاصل ہوئی اور اس نعمت سے بھرے دسترخوان پر بیٹھے ہیں۔

سب سے پہلی ذمہ داری اس عالمی، تاریخی اور ہمیشگی لبیک پر غور و فکر کرنا ہے: انّ الحمد و النعمه لک و الملک، لا شریک لک لبیک۔ تمام تعریفیں اور شکریہ اس کے ساتھ مخصوص ہیں اور تمام نعمتیں اسی کی طرف سے ہیں، اور ہر طرح کا اقتدار اور طاقت اسی کی ہے۔ یہ وہ نگاہ ہے جو حج ادا کرنے والے کو اس عمیق اور بامعنی فریضے کی ادائیگی کے آغاز میں ہی عطا ہوتی ہے، اور حج کے مناسک ادا کرتے وقت ان کے مطابق تشکیل پاتی ہے اور پھر ایک ہمیشہ باقی رہنے والے علم اور نہ بھولنے والے سبق کی مانند اس کے پاس رہتی ہے، اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کا پروگرام اسی نگاہ کی بنیاد پر استوار کرے۔ اس عظیم سبق کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا درحقیقت وہ برکت والا سرچشمہ ہے جو مسلمانوں کی زندگی کو تازگی، زندگی اور تحرک عطا کرسکتا ہے اور انہیں آج کے دور میں اور ہر دور میں ان مشکلات سے نجات دلا سکتا ہے، جو انہیں درپیش ہیں۔ نفسانیت، تکبر اور شہوت کا بت، تسلط پسندی اور تسلط پذیری کا بت، عالمی استکبار کا بت، سستی اور غیر ذمہ داری کا بت، اور انسان کی جان کو ذلیل و خوار کرنے والے تمام دوسرے بت اس ابراہیمی فریاد کے ذریعے توڑے جاسکتے ہیں، بشرطیکہ یہ آواز دل سے نکلے اور انسان کی زندگی کی بنیاد بن جائے، اور اس کے نتیجے میں انحصار، مشکلات اور ذلت، آزادی، عزت اور سلامتی میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔

ہر قوم اور ملک سے آئے حاجی بھائیو اور بہنو، اس الہی حکیمانہ لفظ کے بارے میں سوچیں اور عالم اسلام خاص طور پر مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کو درپیش مسائل و مشکلات پر انتہائی دقیق نظر ڈالتے ہوئے اپنے دائرہ اختیار اور وسائل کو مدنظر قرار دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کریں اور انہیں انجام دینے کی کوشش کریں۔ آج ایک طرف تو اس خطے میں امریکہ کی شیطنت آمیز پالیسیاں، جن کا نتیجہ جنگ، قتل و غارت، تباہی و بربادی، افراد کا بے گھر ہونا، غربت، پسماندگی اور قومی و مذہبی اختلافات کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے، اور دوسری طرف اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کے مظالم، جس نے فلسطین میں اپنے غاصبانہ اقدامات کو سنگدلی اور خباثت کی انتہا تک پہنچا دیا ہے اور مسجد اقصٰی جیسی مقدس جگہ کو مسلسل بے حرمتی اور مظلوم فلسطینیوں کی جان و مال کو نشانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آپ مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ ہے، جس کے بارے میں آپ کو سوچنا چاہئے اور اپنی شرعی و دینی ذمہ داری کا تعین کرنا چاہئے۔ اس بارے میں دینی علماء اور سیاسی و ثقافتی شخصیات کی ذمہ داری کہیں زیادہ سنگین ہے اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ اس سے غفلت برت رہے ہیں۔

علماء کو چاہئے کہ وہ مذہبی اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے، اور سیاست دانوں کو چاہئے کہ وہ دشمن کے مقابلے میں تسلیم ہونے کی بجائے، اور ثقافتی میدان میں سرگرم افراد کو چاہئے کہ وہ فروعی مسائل میں الجھنے کی بجائے عالم اسلام کے اس عظیم درد کو پہچانیں اور اپنی اس ذمہ داری کو قبول کرکے ادا کریں، جس کا انہیں عدل الہی کے سامنے جواب دینا ہے۔ خطے، عراق، شام، یمن اور بحرین، مغربی کنارے، غزہ اور بعض دوسرے ایشیائی اور افریقی ممالک میں خون کے آنسو رلا دینے والے واقعات امت مسلمہ کو درپیش عظیم مشکلات میں سے ہیں، جن کے پیچھے عالمی استکبار کی سازشیں کارفرما ہیں اور انہیں پہچان کر ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اقوام اور ملتیں اپنی حکومتوں سے ان مشکلات کا مقابلہ کرنے کا مطالبہ کریں اور حکومتوں کو چاہئے کہ وہ اپنی اس بھاری ذمہ داری کو ادا کریں۔

حج اور اس کے عظیم اجتماعات اس تاریخی ذمہ داری کے ظہور کا برترین مقام ہے اور ہر جگہ سے آئے حاجیوں کو چاہئے کہ وہ برائت کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ برائت اس جامع فریضے کا اہم ترین سیاسی عمل ہے۔ اس سال مسجد الحرام میں پیش آنے والے دلخراش واقعے نے حاجیوں اور ان کی اقوام کو دکھی کر دیا ہے۔ اگرچہ اس حادثے میں فوت ہونے والے افراد نماز، طواف اور عبادت کی حالت میں خدا سے جا ملے، جو ایک عظیم سعادت ہے اور انشاءاللہ وہ رحمت الہی کی آغوش میں ہیں، جو پسماندگان کے دلوں کیلئے تسلی بخش امر ہے، لیکن اس سے ہرگز ان افراد کی کوتاہی کا ازالہ نہیں ہوسکتا جو حاجیوں کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ ان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی اس ذمہ داری کو اچھی طرح ادا کریں۔
والسلام علی عباداللہ الصالحین
سید علی خامنہ ای
چہارم ذی الحجہ 1436 ھجری قمری۔ 
خبر کا کوڈ : 487132
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے