0
Tuesday 29 Sep 2015 02:06

داعش غیب سے وجود میں نہیں آئی، شامی حکومت اور فوج کی مدد نہ کرنا اشتباہ ہوگا، ولادیمیر پوٹن

داعش غیب سے وجود میں نہیں آئی، شامی حکومت اور فوج کی مدد نہ کرنا اشتباہ ہوگا، ولادیمیر پوٹن
اسلام ٹائمز۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے گذشہ عشرے میں پہلی بار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کی ہے۔ روسی صدر نے ان ممالک پر جو اقوام متحدہ کو نظر انداز کرتے ہیں، تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنا خطرناک ہوگا اور اس کے نتیجے میں دنیا مین ڈکٹیٹرشب وجود میں آسکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر تاکید کی کہ اقوام متحدہ کو بھی بدلتے ہوئے جہان کے حقائق کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ موجودہ حالات میں یو این او کی مطلوبہ افادیت نہیں رہی۔ ولادیمیر پوٹن کا کہنا تھا کہ تاریخ میں موجود تجربات کے باوجود بعض ممالک اپنے آپ کو استثنائی اور مبّٰرا سمجھنے کے خیال سے باہر نہیں آ رہے اور موجود حالات میں بھی ماضی کے اشتباہات کی تکرار کر رہے ہیں۔

دہشتگردی کے مسئلہ پر گفتگو کرتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ بعض ممالک نے شامی حکومت کے مخالفین کی فوجی تربیت کی اور انہیں مسلح کرنا شروع کر دیا اور پھر یہی تربیت یافتہ لوگ داعش میں شامل ہوگئے، ان کا کہنا تھا کہ داعش غیب سے وجود میں نہیں آئی۔ ولادیمیر پوٹن نے مزید کہا کہ انتہا پسند گروہوں کی تشکیل کے ذریعے اپنے مفادات حاصل نہیں کئے جاسکتے، بین الاقوامی دہشتگردی کے خلاف اعلان جنگ اور ساتھ ہی ساتھ ایسے گروہوں کی مالی امداد، ریاکارانہ اقدام ہے۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ داعش میں شامل کچھ لوگ یورپ اور کچھ روس سے آئے ہیں، کہا کہ ہم اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ یہ جرائم پیشہ لوگ جن کے منہ کو خون لگ چکا ہے، یہ اپنے اپنے ممالک میں واپس جائیں اور اپنے انہی دہشتگردانہ اقدامات کو جاری رکھیں۔ روسی صدر نے تاکید کے ساتھ کہا کہ داعش عناصر اسلام کی تحریف کر رہے ہیں اور اس دین کے نام پر اسلام مخالف اقدامات انجام دے رہے ہیں۔

اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے روسی صدر کا کہنا تھا کہ شامی حکومت اور فوج کی مدد نہ کرنا اشتباہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی فوج اور کرد تنہا ایسی قوتیں ہیں جو عرصہ دراز سے حقیقی طور پر داعش سے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے تاکید کے ساتھ کہا کہ داعش کو شکست دینے کے لئے ایک ایسا بین الاقوامی اتحاد وجود میں آنا چاہیئے، جیسا اتحاد نازیوں کو شکست دینے کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ داعش کے خلاف اقدامات میں ہم آہینگی کے لئے جلد ہی وزراء خارجہ کی سطج پر ایک اجلاس منعقد کریں گے۔ روسی صدر نے ایک بار پھر اس بات پر تاکید کی کہ پناہ گزینوں کے بحران کو حل کرنے کیلئے اس بحران کو وجود میں لانے والے بنیادی عوامل کا خاتمہ کرنا ہوگا اور اس کے لئے شام، عراق اور لیبا کی حکومتوں کی مدد کرنا ہوگی۔
خبر کا کوڈ : 487970
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش