0
Saturday 3 Oct 2015 03:19
داعش سے تیل کے تمام کنویں واپس لینے تک کارروائی جاری رکھیں گے

اب تک امریکہ نے دہشتگرد گروہ داعش پر بمباری کرنے کا محض ڈھونگ رچایا ہے، سرگئی لاوروف

اب تک امریکہ نے دہشتگرد گروہ داعش پر بمباری کرنے کا محض ڈھونگ رچایا ہے، سرگئی لاوروف
اسلام ٹائمز۔ روس نے شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے زیر تسلط تیل کے تمام کنویں واپس لینے تک کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امریکہ، برطانیہ، ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی بمباری کی وجہ سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک امریکہ نے دہشتگرد گروہ داعش پر بمباری کرنے کا محض ڈھونگ رچایا ہے اور ان کی فضائی مہم اس سے کئی گنا مؤثر ہوگی۔ روس ان عناصر کو نشانہ بنا رہا ہے جن سے امریکہ بھی برسرپیکار ہے لیکن امریکہ کو خدشہ ہے کہ روس شام میں بشار الاسد کے مخالفین کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یو این کے نیویارک ہیڈ کوارٹرز میں پریس سے بات کرتے ہوِئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ تمام اہداف کا تعین شامی فوج کی مشاورت کے ساتھ کیا گیا ہے۔

ادھر ماسکو میں روسی پارلیمنٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین نے دعویٰ کیا ہے کہ شام میں ان کے ملک کی جانب سے شروع کی گئی فوجی کارروائی تین سے چار ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں روسی فوج شام میں فضائی حملوں میں مزید شدت لائے گی۔ یورپی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے روسی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ شام میں فوجی مشن کے طول پکڑنے کے امکانات اور خطرات موجود ہیں، مگر فی الحال ماسکو کا ارادہ تین سے چار ماہ تک آپریشن جاری رکھنے تک محدود ہے۔ تاہم آنے والے دنوں میں مخصوص اہداف پر حملے تیز کئے جائیں گے۔

دیگر ذرائع کے مطابق امریکہ نے کہا ہے کہ روس شام میں موجود شدت پسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کر رہا ہے، جس سے خطرہ ہے کہ روس مزید بحران میں پھنس جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ روس شام میں شدت پسندوں کے خلاف بے ترتیب انداز میں فضائی حملے کر رہا ہے۔ اس سے قبل روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ روس اْنہی دہشت گرد گروہوں کو نشانہ بنا رہا ہے جنہیں امریکی اتحادی نشانہ بنا رہے ہیں۔ جوش ارنسٹ نے کہا ہے کہ شام میں روس کی بلا امتیاز کارروائی خطرناک ہے، اس سے اگر شامی جنگ لامحدود نہ بھی ہوئی تو وہاں جاری فرقہ وارانہ لڑائی مزید طویل ہوگی۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ امریکی اور روسی حکام نے شام میں کارروائیوں میں باہمی طور پر عدم تصادم کے لئے طویل مذاکرات کئے ہیں۔ امریکی فوج سے تربیت حاصل کرنے والے باغی گروہ لیوا سوکور الجبل کے کا کہنا ہے کہ صوبہ ادلیب میں اس کے ایک ٹریننگ کیمپ کو روسی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ گروپ کے رکن حسن حاج علی نے بتایا کہ شامی ایئر فورس کے ایک پائلٹ جو اب ان کے گروہ کے ممبر ہیں، نے روسی جیٹ طیاروں کی نشاندہی کی۔

دریں اثناء داعش کے خلاف کارروائی میں مصروف امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں فوری طور پر بمباری کی مہم معطل کر دے۔ امریکہ، برطانیہ، ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی بمباری کی وجہ سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور یہ انتہا پسندی کو پھیلانے کا سبب بنے گی۔ امریکہ کی طرح فرانسیسی جیٹ طیارے بھی شام میں داعش دہشتگرد گروہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں لیکن امریکہ کو خدشہ ہے کہ روس شام میں بشار الاسد کے مخالفین کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک سینیئر روسی اہلکار نے بتایا ہے کے روسی فضائی کارروائی کئی ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ روسی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سرابرہ الیکسی پوشکوو نے کہا ہے کہ اب تک امریکہ نے دولت اسلامیہ پر بمباری کرنے کا محض"ڈھونگ" کیا ہے، ان کی فضائی مہم اس سے کئی گنا موثر ہوگی۔ شام میں حکومت مخالف گروہوں نے الزام لگایا ہے کہ روس اپنے اتحادی بشار الاسد کو بچانے کے لئے ان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا ہے کہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ تمام فضائی حملے "داعش" کے خلاف کئے جائیں۔

اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روس داعش کے علاوہ القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ لاوروف نے کہا کہ تمام اہداف کا تعین شامی فوج کی مشاورت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اپنے فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے لئے پیرس پہنچ گئے ہیں۔ الیزے پیلس میں دونوں رہنمائوں میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔ دونوں شام کی لڑائی اور یوکرین کے مسئلے پر 4 ملکی سربراہ کانفرنس پر بات کریں گے۔ روس نے تیسرے روز بھی شام کے علاقے پر بمباری جاری رکھی۔ اطلاعات کے مطابق وہ زیادہ تر بشار الاسد حکومت کے مخالف گروپوں کے علاقے کو ہدف بنا رہا ہے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس نے داعش کے 12 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ روسی وزارت دفاع کے مطابق روس کے سخوئی 34، 24 ایم اور 25 طیاروں نے 18 حملے کئے ہیں۔ روس نے شام میں داعش کے زیرتسلط تیل کے تمام کنویں واپس لینے تک کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ امریکہ، برطانیہ، ترکی اور سعودی عرب کا کہنا ہے کہ بمباری کی وجہ سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ یو این او کے نیویارک کی ہیڈ کوارٹرز میں پریس سے بات کرتے ہوئے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ تمام اہداف کا تعین شامی فوج کی مشاورت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 488663
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

ہماری پیشکش