0
Tuesday 6 Oct 2015 10:44

پاکستان میں پٹرول کی آڑ میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف

پاکستان میں پٹرول کی آڑ میں کروڑوں کی کرپشن کا انکشاف
اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں تیل کی خریداری سے لے کر عوام کو فراہمی تک کرپشن ہی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔ دنیا میں تیل ساٹھ فیصد سستا ہوا، پاکستان میں حکومت نے عوام کو صرف پینتیس فیصد کا فائدہ دے کر من پسند ڈیلرز اور آئل ریفائنریز کو فائدہ پہنچایا گیا۔ کرپشن کی کہانی کا انکشاف نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ”ہو کیا رہا ہے“ میں ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم نے عالمی سطح پر پائی جانیوالی قیمتوں اور پاکستان میں تیل کے نرخوں میں فرق کا بھانڈ پھوڑ دیا۔ ڈاکٹر فرخ سلیم نے بتایا کہ پاکستان دوسرے ممالک کی نسبت عالمی سطح پر 8 سے 10 فیصد زیادہ قیمت پر تیل خریدتا ہے اور یہ سلسلہ پچھلے پندرہ برس سے چل رہا ہے۔ آئل ریفائنری کو ٹیکنالوجی بہتر بنانے کیلئے ٹیکس لگایا گیا لیکن اس کا فائدہ بھی انہیں کمپنیوں کو ہو رہا ہے، عوام کو معیاری تیل ملا نہ ان کمپنیوں نے آج تک اپنی کوالٹی کو بہتر بنایا، یعنی یک نہ شد دو شد۔ ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق ساحل پر تیل لیکر آنیوالے جہاز سے لیکر ٹینکر تک پہنچنے میں آئل مافیا 2 اشاریہ 1 ارب روپے کا تیل غائب کر دیتا ہے، جس کا تمام بوجھ بھی عوام پر پڑتا ہے۔ عوام کو ٹیکسوں اور کرپشن کی مد میں سو ارب روپے کا ٹیکہ لگ جاتا ہے۔ ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ 2013 اور 2014ء میں اگست، ستمبر اور اکتوبر کے مہینوں میں فیورٹ پٹرول پمپس کو تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں دو روز پہلے آگاہ کر دیا گیا جس کے نتیجے میں 75 کروڑ روپے بھی عوام کے کھاتے میں ڈال دیئے گئے۔ ڈاکٹر عاصم کے حکم پر کے الیکٹرک کو 4 ارب روپے کا پٹرول دیا گیا جو ابھی تک واپس نہیں ہوا۔ اسی طرح ایم ڈی پی ایس او احمد پرویز جنجوعہ نے چھبیس لاکھ کا نقصان پہنچایا۔
خبر کا کوڈ : 489228
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب