0
Tuesday 6 Oct 2015 23:02

لاہور پولیس میں جعلی بھرتیوں کا معاملہ، ملزمان سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیئے گئے

لاہور پولیس میں جعلی بھرتیوں کا معاملہ، ملزمان سی ٹی ڈی کے حوالے کر دیئے گئے
اسلام ٹائمز۔ لاہور پولیس نے فورس میں جعلی بھرتیاں کرنیوالے آئی جی آفس کے سپرنٹنڈنٹ سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں تین کانسٹیبل شامل ہیں۔ پکڑے جانیوالے ملزمان میں آفس سپرنٹنڈنٹ ریاض احمد، کانسٹیبل مرزا ندیم بیگ، محمد آصف اور سہیل احمد شامل ہیں۔ چاروں ملزمان نے بھاری رشوت لے کر پولیس میں 147 سے زائد جعلی بھرتیاں کروائیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق جعلی طریقے سے بھرتی ہونیوالے مشتبہ اہلکار وزیراعظم کی رہائش گاہ، لاہور ہائی کورٹ، ڈی سی او آفس، سنٹرل جیل کوٹ لکھپت سمیت حساس مقامات پر ڈیوٹیاں دیتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی جی پنجاب کی ہدایت پر چاروں ملزمان کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ واقعہ کی تفتیش کیلئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم کی نگرانی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں 2 ایس پیز اور ایک ڈی ایس پی شامل ہوں گے۔ کمیٹی ملزمان سے تفتیش کر کے آئی جی کو رپورٹ دے گی جبکہ جعلی طریقے سے بھرتی ہونے والوں کی نگرانی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلسازی سے بھرتی ہونیوالے اہلکاروں میں دہشتگرد بھی شامل ہیں۔ پولیس میں دہشتگردوں کی موجودگی کے بعد تھانہ پرانی انارکلی میں مقدمہ درج کروا دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیبلشمنٹ غلام محی الدین کی مدعیت میں درج کی گئی جبکہ دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن رانا ایاز سلیم کو ہدایت کی ہے کہ ملزمان کیخلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے اور اس حوالے سے کوئی دباؤ قبول نہ کیا جائے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ فورس میں دہشت گردوں کے موجودگی کے بعد ایک بار پھر فورس میں چیکنگ کا عمل شروع کرنے پر غور کیا جارہا ہے اور اس عمل کے دوران پولیس اہلکاروں کے کوائف ازسرنوء مرتب کئے جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 489329
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب