0
Wednesday 21 Oct 2015 20:28

ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ایرانی صدر کے نام رہبر انقلاب اسلامی کا اہم خط

ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ایرانی صدر کے نام رہبر انقلاب اسلامی کا اہم خط
اسلام ٹائمز۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے ایرانی صدر مملکت کے نام خط میں جامع ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد اور مشترکہ ایکشن پلان کے سلسلے میں ضروری ہدایات جاری کی ہیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے مشترکہ ایکشن پلان پر عمل درآمد کی پارلیمنٹ اور شورائے نگبہان سے منظوری اور اس پر عملدر‍ آمد کے آغاز کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے نام اپنے ایک خط میں کہا ہے کہ ایران نے مذاکرات صرف ظالمانہ پابندیوں کے خاتمے کے لئے قبول کئے تھے اور چونکہ مشترکہ جامع ایکشن پلان پر عمل درآمد ایران کی جانب سے عملی اقدامات کے بعد شروع ہوگا تو ضروری ہے کہ مقابل فریق کی وعدہ خلافیوں کے تدارک کے لئے ٹھوس اور لازمی ضمانت حاصل کی جائے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ امریکی صدر اور یورپی یونین سے پابندیوں کے خاتمے کے لئے تحریری اعلان نامہ لیا جائے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس خط میں تحریر کیا ہے کہ یورپی یونین اور امریکی صدر بارک اوباما کے تحریری اعلان نامے میں یہ بات واضح کی جائے کہ ساری پابندیاں مکمل طور پر اٹھا لی گئی ہیں۔ انہوں نے اس خط میں تحریر کیا ہے کہ پابندیوں کا نظام باقی رکھنے کے بارے میں کوئی بھی بیان مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی ہوگا۔ آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اپنے اس اہم خط میں کہا ہے کہ آئندہ آٹھ سال کے عرصے میں کسی بھی سطح پر یا کسی بھی بہانے منجملہ دہشت گردی کی حمایت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی جیسے خود ساختہ اور تکراری د‏عوؤں اور بہانوں سے مذاکرات میں شریک کسی بھی ملک کی طرف سے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کیا جانا مشترکہ جامع ایکشن پلان کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔

آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے اس خط میں تحریر کیا ہے کہ امریکی حکومت نے صرف ایٹمی معاملے میں نہیں بلکہ ہر معاملے میں ایران سے مخاصمت اور دشمنی اور اس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں اپنایا اور ہم بعید سمجھتے ہیں کہ مستقبل میں بھی اس کا رویّہ اس سے مختلف ہوگا۔ رہبر انقلاب اسلامی نے اس خط میں تاکید کی ہے کہ مذاکرات کا نتیجہ جو مشترکہ جامع ایکشن پلان کی شکل میں سامنے آیا ہے، کچھ مبہم نکات کا حامل ہے اور اس میں کچھ کمزور پہلو بھی ہیں کہ اگر ان پر پوری دقت سے نظر نہ رکھی گئی اور ہر آن اور ہر لمحہ ان کا خیال نہ رکھا گیا تو ایران کے حال اور مستقبل کے لئے بڑے نقصانات کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسلامی انقلاب کے سربراہ نے تحریر کیا ہے کہ اراک کی ایٹمی تنصیبات کی جدید کاری کے اقدامات اور ایران میں موجود افزودہ یورینیم کا معاملہ اسی وقت شروع ہوگا جب آئی اے ای اے کی طرف سے پی ڈی ایم کے خاتمے اور اس سلسلے میں ایک مستحکم اور مطمئن معاہدے کا اعلان ہو جائے گا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اس خط میں تحریر کیا ہے کہ مشترکہ ایکشن پلان کے متن میں جن نکات میں ابہام پایا جاتا ہے، ان کے سلسلے میں مقابل فریق کی تشریح قابل قبول نہیں ہے اور وہی بات مانی جائے گی جو مذاکرات کے متن میں ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے تسلط پسندانہ نظام اور سامراج کی مخالفت میں برحق اسلامی موقف پر ثابت قدمی، توسیع پسندیوں اور کمزور قوموں پر دست درازی کے مقابلے میں استقامت، ظالم اور قرون وسطائی فکر کی حامل اور حریت پسند قوموں کو کچلنے والی آمرانہ حکومتوں کے لئے امریکی حمایت کا پردہ فاش کرنا اور غاصب صیہونی حکومت کے مقابلے میں فلسطینی عوام کا ہر آن دفاع اسلامی جمہوریہ ایران سے سامراج کی عداوت کے اہم اسباب میں قرار دیا۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای نے صدر کے نام اپنے خط میں امور کی پیشرفت اور ‍مقابل فریق کی جانب سے معاہدے کی پاسداری کے عمل پر نظر رکھنے کے لئے ایک مضبوط اور ہوشیار ٹیم کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ ہر چند ظلم کے خاتمے اور ایرانی عوام کے حقوق کی بازیابی کے نقطہ نگاہ سے ایک ضروری کام ہے، لیکن اقتصادی خوشحالی، معاشی پیشرفت اور موجودہ مشکلات کا خاتمہ استقامتی معیشت کے تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے کام کرنے سے ہی ممکن ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 492794
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب