0
Sunday 25 Oct 2015 00:12

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر

کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر
اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشترپارک سے برآمد ہوکر امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پذیر ہوگیا، یوم عاشور کا سورج غروب ہونے کے شہر بھر میں مجالس شامِ گربیاں کا انعقاد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق یوم عاشور کی مرکزی مجلس عزا نشتر پارک میں منعقد ہوئی، مجلس کے اختتام پر مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا، جو اپنے روایتی راستوں نشتر پارک، ایم اے جناح روڈ، صدر، ایمپریس مارکیٹ، ریگل چوک، تبت سینٹر، ریڈیو پاکستان، جامع کلاتھ، لائٹ ہاؤس، بولٹن مارکیٹ، ٹاور سے ہوتا ہوا کھارادر میں واقع امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوا۔ مرکزی جلوس عزاء میں علم، تابوت، تعزیئے، شبیہ ذوالجناح بھی برآمد کئے گئے، مرکزی جلوس میں خواتین، بچوں، بوڑھوں سمیت لاکھوں کی تعداد میں عزاداران امام مظلومؑ شریک تھے۔

مرکزی جلوس میں سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے تحت تبت سینٹر کے مقام پر نماز ظہرین کا انتظام کیا گیا۔ نماز باجماعت کی امامت حجة السلام و المسلمین علامہ غلام عباس رئیسی نے کی۔ اس موقع پر علمائے کرام سمیت شرکاء کی بہت بڑی تعداد نے نماز ظہرین ادا کی، جس کے بعد عزاداران سید الشہداءؑ نے سندھ کے شہر جیکب آباد میں نویں محرم کے ماتمی جلوس پر خودکش حملے کے خلاف احتجاج کیا، اس دوران لبیک یا حسین (ع) کے نعرے بلند کئے، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آج کی کربلا میں بھی عاشقان امام حسین (ع) اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر حق کے راستے پر چلتے ہوئے یزیدیت اور تکفیریت کو رسوا کرتے رہینگے۔ نماز ظہرین کی ادائیگی کے بعد نوحوں اور مرثیوں کی صداؤں میں مرکزی جلوس مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پہنچ کر اختتام پزیر ہوا، جہاں مجلس شام غریباں منعقد کی گئی۔ جلوس کی گزرگاہ پر عزاداروں کیلئے پانی، دودھ اور شربت کی سبیلیں لگائی گئیں، جبکہ نذر و نیاز کی تقسیم بھی کی گئی۔

مرکزی جلوس کے راستوں پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے، جلوس کے راستوں پر 18 ہزار پولیس و رینجرز اہلکاروں نے سیکیورٹی پر معمور تھے۔ صبح آٹھ بجے سے رات 10 بجے تک موبائل فون سروس معطل، جبکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی تھی۔ جلوس میں جانے والی گاڑیوں کی چیکنگ کیلئے رینجرز کی جانب سے وہیکل اسکینر بھی لگایا گیا، اور بم ڈسپوزل اسکواڈ اور سراغ رساں کتوں سے جلوس کے روٹ کو چیک کیا گیا۔ بلند عمارتوں پر نشانے باز اہلکار تعینات تھے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں سے جلوس کی مانیٹرنگ کی جاتی رہی۔ جلوس کے شرکاء کی واک تھرو گیٹ سے گزارنے کے بعد جامع تلاشی بھی لی گئی۔ جلوس کو اسکاؤٹس، پولیس اور رینجرز نے تین حفاظتی حصار میں رکھا تھا۔ ہیلی کاپٹر سے جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔ اسپشل برانچ، اسپشل سیکیورٹی یونٹ، سی ٹٰی ڈی اور حساس اداروں کے افسران بھی سادہ کپڑوں میں سیکیورٹی پر مامور تھے، جبکہ جلوس کی نگرانی کیلئے پولیس کی جانب سے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی قائم کیا گیا تھا، جس میں خفیہ کیمروں کے ذریعے جلوس کی نگرانی کی گئی، اس کے علاوہ جلوس کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے جلوس کی فضائی نگرانی بھی کی گئی، اور پاک فوج کے دستے بھی پولیس اور رینجرز کی معاونت کیلئے اسٹینڈ بائی پوزیشن پر رہے۔
خبر کا کوڈ : 493353
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب